Al-Risala · July 1980 · page 25

یہ قیادت ہے، خدمت نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۲۵

مگر اللہ گواہ ہے اس پر جو اس نے تمہارے اوپر اتارا ہے کہ اس نے اس کو اپنے علم کے ساتھ اتارا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ گواہی کے لئے کافی ہے۔ جن لوگوں نے انکار کیا اور اللہ کے راستے سے روکا وہ بہک کر بہت دور نکل گئے۔ جن لوگوں نے انکار کیا اور ظلم کیا ان کو اللہ ہرگز نہیں بخشے گا نہ ہی ان کو جہنم کے سوا کوئی راستہ دکھائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں ۔ اور اللہ کے لئے یہ آسان ہے۔ اے لوگو، تمہارے پاس رسول آ چکا تمھارے رب کی ٹھیک بات لے کر۔ پس مان لوتا کہ تمہارا بھلا ہو۔ اور اگر نہ مانو گے تو اللہ کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ ۱۶۶-۱۷۰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہود کو آسمانی مذہب کے نمائندہ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ مذہب کے بڑے بڑے مناصب پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو منظور نہ ہوا کہ وہ اپنے سوا کسی کی بڑائی تسلیم کریں۔ انھوں نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ آپ اللہ کی طرف سے اس کے بندوں تک اس کا پیغام پہنچانے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم دین کے اجارہ دار ہیں۔ ہم جس شخص کی دینی صداقت کو تسلیم نہ کریں وہ بطور واقعہ بھی غیر تسلیم شدہ بن جاتا ہے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہ کائنات خدا کی کائنات ہے اور اس کا نظام خدا کے فرماں بردار فرشتے چلا رہے ہیں۔ اس لئے یہاں کسی کی اصل تصدیق وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہو اور کائنات کا پورا نظام جس کی تائید کرے۔ اور یقیناً خدا اور اس کی پوری کائنات اپنے پیغمبر کے ساتھ ہے نہ کہ کسی کے خود ساختہ مزعومات کے ساتھ۔ خدا کی پکار کے مقابلہ میں جو لوگ یہ رد عمل دکھائیں گے وہ اس کا اعراض وانکار کر یں، وہ لوگوں کو اس کا ساتھ دینے سے روکیں گے وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ بندگی کے صحیح مقام سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی تردید ساری کائنات کر رہی ہے۔ وہ ایک ایسے منصوبہ کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں جس کی پشت پر زمین و آسمان کا مالک کھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نادانی اس دنیا میں اور کوئی نہیں، ایسے لوگ دین کے نام پر سب سے بڑی بے دینی کر رہے ہیں۔ جو لوگ اپنے لئے اس قسم کا ظالمانہ رویہ پسند کریں ان کا ذہن اعتراف کے بجائے انکار کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ دن بدن حق سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ابدی بربادی کے گڑھے میں جاگرتے ہیں۔ خدا کی دعوت کا انکار خود خدا کا انکار ہے۔ خدا کی دعوت اتنے کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کے لئے مشکل نہ رہے۔ اس کے باوجود جو لوگ خدا کی دعوت کا انکار کریں وہ گویا خدا کے سامنے ڈھٹائی کر رہے ہیں۔ اور ڈھٹائی اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔

اگر آدمی نے اپنے دل کی کھڑکیاں کھلی رکھی ہوں تو اللہ کی پکار اس کو عین اپنی تلاش کا جواب معلوم ہوگی۔ اس کو محسوس ہوگا کہ وہ حق جو انسانی باتوں میں ڈھک کر رہ گیا تھا، اللہ نے اس کی بے آمیز شکل میں اس کے اعلان کا انتظام کیا ہے، یہ اللہ کے علم اور حکمت کا ظہور ہے نہ کہ کسی شخص کے ذاتی جوش کا کوئی معاملہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues

Printed page