یہ قیادت ہے، خدمت نہیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۶
تذکیر القرآن النساء ۴ اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کے بارے میں کوئی بات حق کے سوا نہ کہو۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم تو بس اللہ کے ایک رسول اور اس کا ایک کلمہ ہیں جس کو اس نے مریم کی طرف القا فرمایا اور اس کی جانب سے ایک روح ہیں۔ پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور یہ نہ کہو کہ خدا تین ہیں۔ باز آجاؤ، یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ معبود تو بس ایک اللہ ہی ہے۔ وہ پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہی کا کارساز ہونا کافی ہے۔ مسیح کو ہرگز اللہ کا بندہ بننے سے عار نہ ہوگا اور نہ مقرب فرشتوں کو ہوگا۔ اور جو اللہ کی بندگی سے عار کرے گا اور تکبر کرے گا تو اللہ ضرور سب کو اپنے پاس جمع کرے گا۔ پھر جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کیے تو ان کو وہ پورا پورا اجر دے گا اور اپنے فضل سے ان کو مزید بھی دے گا۔ اور جن لوگوں نے عار اور تکبر کیا ہوگا ان کو درد ناک عذاب دے گا اور وہ اللہ کے مقابلے میں کسی کو اپنا دوست پائیں گے اور نہ مددگار۔ - ۱۷۱ آدمی کی یہ کمزوری ہے کہ کسی چیز میں کوئی امتیازی پہلو دیکھتا ہے تو اس کے بارے میں مبالغہ آمیز تصور قائم کر لیتا ہے۔ وہ اس کا مقام متعین کرنے میں حد سے آگے نکل جاتا ہے۔ اسی کا نام غلو ہے۔ شرک اور شخصیت پرستی کی تمام قسمیں اصلا اسی غلو کی پیداوار ہیں۔
دین میں غلو یہ ہے کہ دین میں کسی چیز کا جو درجہ ہو اس کو اس کے واقعی درجہ پر نہ رکھا جائے بلکہ اس کو بڑھا کر زیادہ بڑا درجہ دینے کی کوشش کی جائے۔ — اللہ اپنے ایک بندے کو باپ کے بغیر پیدا کرے تو کہہ دیا جائے کہ یہ خدا کا بیٹا ہے۔ اللہ کسی کو کوئی بڑا مرتبہ دے دے تو سمجھ لیا جائے کہ وہ کوئی مافوق شخصیت ہے اور بشری غلطیوں سے پاک ہے۔ دنیا کی چمک دمک سے بچنے کی تاکید کی جائے تو اس کو بڑھا چڑھا کر ترک دنیا تک پہنچا دیا جائے۔ زندگی کے کسی پہلو کے بارے میں کچھ احکام دے جائیں تو اس میں مبالغہ کر کے اسی کی بنیاد پر ایک پورا دینی فلسفہ بنا دیا جائے۔ اس قسم کی تمام صورتیں جن میں کسی دینی چیز کو اس کے واقعی مقام سے بڑھا کر مبالغہ آمیز درجہ دیا جائے وہ غلو کی فہرست میں شامل ہوگا۔
ہر قسم کی طاقتیں صرف اللہ کو حاصل ہیں۔ اس کے سوا جتنی چیزیں ہیں سب عاجز اور محکوم ہیں۔ انسان اپنے شعور کے کمال درجہ پر پہنچ کر جو چیز دریافت کرتا ہے وہ یہ کہ خدا قادرمطلق ہے اور وہ اس کے مقابلہ میں عاجز مطلق۔ پیغمبر اور فرشتے اس شعور میں سب سے آگے ہوتے ہیں اس لئے وہ خدا کی قدرت اور اپنے عجز کے اعتراف میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں۔ یہ اعتراف ہی انسان کا اصل امتحان ہے جس کو اپنے عجز کا شعور ہو جائے اس نے خدا کے مقابلہ میں اپنی نسبت کو پالیا۔ اور جس کو اپنے عجز کا شعور نہ ہو وہ خدا کے مقابلہ میں اپنی نسبت کو پانے سے محروم رہا۔ پہلا شخص آنکھ والا ہے جو کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کو پہنچے گا۔ دوسرا شخص اندھا ہے جس کے لئے اس کے سوا کوئی انجام نہیں کہ وہ بھٹکتا رہے یہاں تک کہ ذلت کے گڑھے میں جاگرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues