Al-Risala · July 1980 · page 47

یہ قیادت ہے، خدمت نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۴۷

تذکیر القرآن النسا ء ۴ اے لوگو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل آ چکی ہے اور ہم نے تمہارے اوپر ایک واضح روشنی اتار دی۔ پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کو انھوں نے مضبوط پکڑ لیا، ان کو ضرور اللہ اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور ان کو اپنی طرف سیدھا راستہ دکھائے گا۔ لوگ تم سے حکم پوچھتے ہیں۔ کہہ دو اللہ تم کو کلالہ کے بارے میں حکم بتاتا ہے۔ اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے کوئی اولاد نہ ہو۔ اور اس کے ایک بہن ہو تو اس کے لئے اس کے ترکہ کا نصف ہے۔ اور وہ مرد اس بہن کا وارث ہو گا اگر اس بہن کے کوئی اولاد نہ ہو۔ اور اگر دو بہنیں ہوں تو ان کے لئے اس کے ترکہ کا دو تہائی ہو گا ۔ اور اگر کئی بھائی بہن مرد عورتیں ہوں تو ایک مرد کے لئے دو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔ اللہ تمہارے لئے بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔ (۱۷۴-۱۷۳ اللہ کی طرف سے جب اس کی پکار انسانوں کے سامنے بلند ہوتی ہے تو وہ ایسی کھلی ہوئی صورت میں بلند ہوتی ہے جو تاریکیوں کو ختم کر کے حقائق کو آخری حد تک روشن کر دے۔ اسی کے ساتھ وہ ایسے دلائل سے مسلح ہوتی ہے جس کا رد کرنا کسی کے لئے ممکن نہ ہو۔ وہ اس کا استہزا تو کر سکتے ہیں مگر دلیل کی زبان میں اس کو کاٹ نہیں سکتے۔ خدا وہ ہے جو سورج کو نکالتا ہے تو روشنی اور تاریکی ایک دوسرے سے جدا ہو جاتی ہیں۔ خدا کی یہی قدرت اس کی پکار میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے بعد حق اور باطل ایک دوسرے سے اس طرح الگ ہو جاتے ہیں کہ کسی آنکھ والے کے لئے اس کا جاننا ناممکن نہ رہے۔ تاہم سورج کو دیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی اپنی آنکھ کھولے۔ اسی طرح خدا کی پکار سے ہدایت لینے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی اس پر دھیان دے، جو شخص دھیان نہ دے وہ خدا کی پکار کے درمیان رہ کر بھی اس سے محروم رہے گا۔

اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حق کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا جائے، کیونکہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شیطان ہر آدمی کے پیچھے لگا ہوا ہے جو طرح طرح کے دھوکے میں ڈال کر آدمی کو حق سے بد کا تا رہتا ہے۔ اگر آدمی شیطان کے وسوسوں سے لڑ کر حق کا ساتھ دینے کا فیصلہ نہ کرے تو یقیناً شیطان اس کو درمیان میں اچک لے گا۔ تاہم آزمائش کی اس دنیا میں انسان اکیلا نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کی طرف چلنا چاہیں گے ان کو ہر موڑ پر خدا کی رہنمائی حاصل ہوگی ۔ وہ خدا کی مدد سے منزل پر پہنچنے میں کامیاب ہوں گے۔ جب آدمی کا یہ حال ہو جائے کہ وہ صرف حق کو اہمیت دے تو اللہ کی توفیق سے اس کے اندر یہ صلاحیت ابھر آتی ہے کہ وہ خالص حق مضبوطی کے ساتھ جمے اور دوسری راہوں میں بھٹکنے سے بچارہے۔

میراث اور ترکہ کا حکم بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ” اللہ اپنا حکم بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ میں نہ پڑو " ظاہر کرتا ہے کہ میراث اور ترکہ کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ان امور میں سے ہے جس میں اللہ کے بتائے ہوئے قاعدے کی پابندی نہ کرنا آدمی کو گمراہی کی خندق میں ڈال دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues

Printed page