Al-Risala · July 1980 · page 28

یہ قیادت ہے، خدمت نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۲۸

تذکیر القرآن المائدہ ۵ رکوعاتہا ۵ سورۃ المائدہ مدنیہ۔ ۵ آياتہا ۱۲۰ آیت ۱۲ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے ایمان والو، عہد و پیمان کو پورا کر و۔ تمہارے لئے مویشی کی قسم کے سب جانور حلال کئے گئے سو ان کے جن کا ذکر آگے کیا جا رہا ہے۔ مگر احرام کی حالت میں شکار کو حلال نہ جانو۔ اللہ حکم دیتا ہے جو چاہتا ہے۔ اے ایمان والو، بے حرمتی نہ کرو اللہ کی نشانیوں کی اور نہ حرمت والے مہینوں کی اور نہ حرم میں قربانی والے جانوروں کی اور نہ پٹے بندھے ہوئے نیاز کے جانوروں کی اور نہ حرمت والے گھر کی طرف آنے والوں کی جو اپنے رب کا فضل اور اس کی خوشی ڈھونڈنے نکلے ہیں۔ اور جب تم احرام کی حالت سے باہر آ جاؤ تو شکار کرو۔ اور کسی قوم کی دشمنی کہ اس نے تم کو مسجد حرام سے روکا ہے تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم زیادتی کرنے لگو۔ تم نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے ۱-۲ مومن کی زندگی ایک پابند زندگی ہے۔ وہ دنیا میں آزاد ہے کہ جو چاہے کرے اس کے باوجود وہ اللہ کی آقائی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو پابند بنا لیتا ہے، وہ اپنے آپ کو از خود عہد کی رسی میں باندھ لیتا ہے۔ اللہ کا معاملہ ہر بندوں کا معاملہ، دونوں قسم کے معاملات میں اس نے اپنے کو پابند کر لیا ہے کہ وہ آزادانہ عمل نہ کرے بلکہ خدا کے حکم کے مطابق عمل کرے۔ وہ اٹھیں چیزوں کو اپنی خوراک بنائے' جو خدا نے اس کے لئے حلال کی ہیں اور جو چیزیں خدا نے حرام کی ہیں ان کو کھانا چھوڑ دے۔ کسی موقع پر اگر کسی جائز چیز سے بھی روک دیا جائے جیسا کہ احرام کی حالت میں یا حرام مہینوں کے بارے میں حکم سے واضح ہوتا ہے تو اس کو بھی بے چون و چرا مان لے۔ کوئی چیز کسی دینی حقیقت کی علامت بن جائے تو اس کا احترام کرے، کیوں کہ ایسی چیز کا احترام خود دین کا احترام ہے، اور یہ سب کچھ اللہ کے خوف سے کرے نہ کسی اور جذبہ سے۔

آدمی عام حالات میں اللہ کے حکموں پر عمل کرتا ہے۔ مگر جب کوئی غیر معمولی حالت پیدا ہوتی ہے تو وہ بدل کر دوسرا انسان بن جاتا ہے۔ اللہ سے ڈرنے والا یکایک اللہ سے بے خوف انسان بن کر کھڑا ہو جاتا ہے یہ موقع وہ ہے جب کہ کسی کی کوئی مخالفانہ حرکت اس کو مشتعل کر دیتی ہے۔ ایسے موقع پر آدمی انصاف کی حدوں کو بھول جاتا ہے اور یہ چاہنے لگتا ہے کہ جس طرح بھی ہو اپنے حریف کو ذلیل اور ناکام کرے۔ مگر اس قسم کی معاندانہ کارروائی خدا کے نزدیک جائز نہیں، حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ مسجد حرام کی زیارت جیسے پاک کام سے کسی نے دوسرے کو روکا ہو کوئی شخص اس قسم کی ظالمانہ کارروائی کرنے کے لئے اٹھے اور کچھ لوگ اس کا ساتھ دینے لگیں تو یہ گناہ کی راہ میں کسی کی مدد کرنا ہو گا۔ جب کہ اللہ سے ڈرنے والوں کا شیوہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ صرف نیکی کے کاموں میں دوسرے کی مدد کریں۔ جو شخص حق پر ہو اس کا ساتھ دینا اور جو ناحق پر ہو اس کا ساتھ نہ دینا موجودہ دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ مگر اسی مشکل کام پر آدمی کے اخروی انجام کا فیصلہ ہونے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues

Printed page