یہ قیادت ہے، خدمت نہیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۲۹
تذکیر القرآن المائدہ ۵ تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور نام پر ذبح کیا گیا ہو اور وہ جو مرگیا ہو گھونٹنے سے یا چوٹ سے یا اونچے سے گر کر یا سینگ مارنے سے اور وہ جس کو درندے نے کھایا ہو مگر جس کو تم نے ذبح کرلیا اور وہ جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تقسیم کرو جوئے کے تیروں سے۔ یہ گناہ کا کام ہے۔ آج کا فر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے ۔ پس تم ان سے نہ ڈرو ، صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو پورا کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔ پس جو بھوک سے مجبور ہوجائے لیکن گناہ پر مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۳ بعض جانور اپنے طبی اور اخلاقی نقصانات کی وجہ سے اس قابل نہیں کہ انسان ان کو اپنی خوراک بنائے خنزیر کو اللہ تعالیٰ نے اسی سبب سے حرام قرار دیا۔ اسی طرح جانور کے جسم میں گوشت کے علاوہ کئی دوسری چیزیں ہوتی ہیں جو انسانی خوراک بننے کے قابل نہیں۔ اٹھیں میں سے خون بھی ہے۔ چنانچہ اسلام میں جانور کو ذبح کرنے کی ایک خاص صورت مقرر کی گئی تاکہ جانور کے جسم کا خون پوری طرح بہہ کر نکل جائے۔ ذبح کے سوا جانور کو مارنے کے جو طریقے ہیں ان میں خون جانور کے گوشت میں جذب ہوکر رہ جاتا ہے ، وہ پوری طرح اس سے الگ نہیں ہوتا۔ اسی سبب سے شریعت میں مردار کی تمام قسموں کو بھی حرام کر دیا گیا۔ کیوں کہ مردار جانور کا خون فوراً ہی اس کے گوشت میں جذب ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایسا گوشت بھی حرام کر دیا گیا جس میں کسی طرح مشر کا نہ عقیدہ کی آمیزش ہو جائے۔ مثلاً غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کرنا یا غیر اللہ کے تقرب کی خاطر جانور کو قربان کرنا۔ تاہم اللہ نے اپنی رحمت خاص سے یہ گنجائش دے دی کہ کسی کو بھوک کی ایسی مجبوری پیش آجائے کہ اس کو موت یا حرام خوراک میں سے ایک کو لینا ہو تو وہ موت کے مقابلہ میں حرام خوراک کو اختیار کرے۔
" آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کر دیا ، یعنی تم کو جو احکام دئے جانے تھے وہ سب دے دئے گئے۔ تمہارے لئے جو کچھ بھیجا مقدر کیا گیا وہ سب بھیجا جا چکا ۔ یہاں علی الاطلاق دین کے کامل کئے جانے کا ذکر نہیں ہے بلکہ امت محمدی پر جو قرآن نازل ہونا شروع ہوا تھا اس کے پورے ہونے کا اعلان ہے۔ یہ نزول کی تکمیل کا ذکر ہے نہ کہ دین کی تکمیل کا۔ اسی لئے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ " آج میں نے دین کو کامل کر دیا " بلکہ یہ فرمایا کہ " آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کر دیا " حقیقت یہ ہے کہ خدا کا دین ہر زمانہ میں اپنی کامل صورت میں انسان کو دیا گیا ہے۔ خدا نے کبھی ناقص دین انسان کے پاس نہیں بھیجا۔
قرآن کو ماننے والی امت کو خدا نے اتنی مضبوط بنیادوں پر قائم کر دیا ہے کہ وہ اپنی امکانی قوت کے اعتبار سے ہر بیرونی خطرہ کی زد سے باہر جا چکی ہے۔ اب اگر اس کو کوئی نقصان پہنچے گا تو اندرونی کم زوریوں کی وجہ سے نہ کہ خارجی حملوں کی وجہ سے۔ اور اندرونی کمزوریوں سے پاک رہنے کی سب سے بڑی ضمانت یہ ہے کہ اس کے افراد اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues