Al-Risala · July 1980 · page 30

المائدہ ۵

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰

المائدہ ۵

وہ پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیا چیز حلال کی گئی ۔ کہو کہ تمہارے لئے ستھری چیزیں حلال ہیں ۔ اور شکاری جانوروں میں سے جن کو تم نے سدھایا ہے ، تم ان کو سکھاتے ہو اس میں سے جو اللہ نے تم کو سکھایا۔ پس تم ان کے شکار میں سے کھاؤ جو وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں۔ اور ان پر اللہ کا نام لو اور اللہ سے ڈرو، اللہ بے شک جلد حساب لینے والا ہے۔ آج تمہارے لئے سب ستھری چیزیں حلال کر دی گئیں ۔ اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے۔ اور حلال ہیں تمہارے لئے پاک دامن عورتیں مسلمان عورتوں میں سے اور پاک دامن عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی جب تم انہیں ان کے مہر دے دو اس طرح کہ تم نکاح میں لانے والے ہو، نہ علانیہ بدکاری کرو اور نہ خفیہ آشنائی کرو اور جو شخص ایمان کے ساتھ کفر کرلے گا تو اس کا عمل ضائع ہو جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں سے ہوگا ۵ - ۴ وہ تمام چیزیں جن کو فطرت کی نگاہ پاک اور ستھرا محسوس کرتی ہے۔ اور وہ تمام جانور جو اپنی سرشت کے لحاظ سے انسان کی سرشت سے مناسبت رکھتے ہیں انسان کے لئے حلال ہیں۔ البتہ یہ شرط ہے کہ خارجی سبب سے ان کے اندر کوئی فساد شرعی یا طبّی نہ پیدا ہوا ہو۔ تا ہم اس اصول کو انسان محض اپنی عقل سے پوری طرح متعین نہیں کر سکتا اس لئے اس کو تعین کے ساتھ بھی بیان کر دیا گیا ہے سدھائے ہوئے جانور کا شکار بھی اسی لئے حلال ہے کہ وہ شکار کو اپنے مالک کے لئے پکڑ کر رکھتا ہے۔ گویا اس نے آدمی کی خو سیکھ لی۔ ایسا جانور گویا یا شکار کے معاملہ میں خود آدمی کا قائم مقام بن گیا ۔

حلال و حرام کا قانون خواہ کتنی ہی تفصیل کے ساتھ بتا دیا جائے بالآخر آدمی کا اپنا ارادہ ہی ہے جو اس کو کسی چیز سے روکتا ہے اور کسی چیز کی طرف لے جاتا ہے۔ آدمی کے اوپر اصل نگراں قانون کی دفعات نہیں بلکہ وہ خود ہے۔ اگر آدمی خود نہ چاہے تو قانون کو مانتے ہوئے وہ اس سے فرار کی راہیں تلاش کرے گا۔ یہ صرف اللہ کا خوف ہے جو آدمی کو پابند کرتا ہے کہ وہ قانون کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ ملحوظ رکھے ۔ اسی لئے حرام و حلال کا قانون بتاتے ہوئے کہا گیا : اللہ سے ڈرو، اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

مسلمان عورت کے لئے کسی حال میں جائز نہیں کہ وہ غیر مسلم مرد سے نکاح کرے۔ مگر مسلمان مردوں کو مخصوص شرائط کے تحت اجازت دی گئی ہے کہ وہ اہل کتاب عورتوں کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں۔ اس گنجائش کی حکمت یہ ہے کہ عورت فطرة تاثر پذیر مزاج رکھتی ہے۔ اس سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ عملی زندگی میں آنے کے بعد اپنے مسلم شوہر اور مسلم معاشرہ کا اثر قبول کرلے اور اس طرح نکاح اس کے لئے اسلام میں داخلہ کا ذریعہ بن جا ئے۔ "جو شخص ایمان سے انکار کرے تو اس کا عمل ضائع ہو گیا" یعنی اعمال کے بدفعلی کی کوئی حقیقت نہیں۔ عمل وہی ہے جو خالص اللہ کے لئے کیا جائے ۔ جو عمل اللہ کے لئے نہ ہو وہ خود اپنے لئے بدنما ہے۔ چھراپنی طرح کرنے والے کی قیمت اللہ کیوں دے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues

Printed page