المائدہ ۵
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۱
اے ایمان والو ، جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں تک دھوؤ اور اگر تم حالت جنابت میں ہو تو غسل کر لو۔ اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی استنجا سے آئے یا تم نے عورت سے صحبت کی ہو پھر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اپنے چہروں اور ہاتھوں پر اس سے مسح کر لو۔ اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی ڈالے۔ بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے تاکہ تم شکر گزار بنو ۔
نماز کا مقصد آدمی کو برائیوں سے پاک کرنا ہے۔ وضو اسی کی ایک خارجی تیاری ہے۔ آدمی جب نماز کا ارادہ کرتا ہے تو پہلے وہ پانی کے پاس جاتا ہے۔ پانی بہت بڑی نعمت ہے جو آدمی کے لئے ہر قسم کی گندگی کو دھونے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اسی طرح نماز بھی ایک ربانی چشمہ ہے جس میں نہا کر آدمی اپنے آپ کو برے جذبات اور گندے خیالات سے پاک کرتا ہے۔
آدمی وضو کو شروع کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتا ہے تو گویا عمل کی زبان میں یہ دعا کرتا ہے کہ خدایا میرے ان ہاتھوں کو برائی سے بچاؤ اور ان کے ذریعہ جو برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں ان کو دھو کر صاف کر دے۔ پھر وہ اپنے منہ میں پانی ڈالتا ہے اور اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو اس کی روح زبان حال سے کہہ اٹھتی ہے کہ خدایا میں نے اپنے منہ میں جو غلط خوراک ڈالی ہو، میں نے اپنی زبان سے جو برا کلمہ نکالا ہو، میری آنکھوں نے جو بری چیز دیکھی ہو ان سب کو تو مجھ سے دور کر دے۔ پھر وہ پانی لے کر اپنے ہاتھوں کو سر کے اوپر پھیرتا ہے تو اس کا وجود سراپا اس دعا میں ڈھل جاتا ہے کہ خدایا میرے ذہن نے جو بری باتیں سوچی ہوں اور جو غلط منصوبے بنائے ہوں ان کے اثرات کو مجھ سے دھودے اور میرے ذہن کو پاک صاف ذہن بنا دے۔ پھر جب وہ اپنے پیروں کو دھوتا ہے تو اس کا عمل اس کے لئے اپنے رب کے سامنے یہ درخواست بن جاتا ہے کہ وہ اس کے پیروں سے برائی کی گرد کو دھودے اور اس کو ایسا بنادے کہ سچائی اور انصاف کے راستہ کے سوا کسی اور راستہ پر وہ کبھی نہ چلے۔ اس طرح پورا وضو آدمی کے لئے گویا اس دعا کی عملی صورت بن جاتا ہے کہ : خدایا مجھے غلطی سے پلٹنے والا بنا اور مجھ کو برائیوں سے پاک رہنے والا بنا۔
عام حالات میں پانی کا احساس پیدا کرنے کے لئے وضو کافی ہے۔ مگر جنابت کی حالت ایک غیر معمولی حالت ہے اس لئے اس میں پورے جسم کا دھونا (غسل) ضروری قرار دیا گیا۔ وضو اگر چھوٹا غسل ہے تو غسل بڑا وضو ہے۔ تاہم اللہ تعالی کو یہ پسند نہیں کہ وہ بندوں کو غیر ضروری مشقت میں ڈالے۔ اس لئے معذوری کی حالتوں میں پاکی کے احساس کو تازہ کرنے کے لئے تیمم کو کافی قرار دیا گیا۔ وضو اور غسل کے سادہ طریقے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ اس طرح طہارت شرعی کو طہارت طبعی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے معذوری کی حالت میں تیمم کی اجازت مزید نعمت ہے کیونکہ یہ ظلم سے بچانے والی ہے جس میں اکثر مذاہب مبتلا ہوئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues