المائدہ ۵
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۲
اور اپنے اوپر للہ کی نعمت کو یاد کرو اور اس کے اس عہد کو یاد کرو جو اس نے تم سے لیا ہے۔ جب تم نے کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے مانا۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ دلوں کی بات تک جانتا ہے۔ اے ایمان والو، اللہ کے لئے قائم رہنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو۔ اور کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو۔ یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو۔ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے لئے بخشش ہے اور بڑا اجر ہے۔ اور جنھوں نے انکار کیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ایسے لوگ دوزخ والے ہیں۔ اے ایمان والو، اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد کرو جب ایک قوم نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کرے تو اللہ نے تم سے ان کے ہاتھ کو روک دیا۔ اور اللہ سے ڈرو اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے ۱۱۔ ۷ ایمان ایک عہد ہے جو بندے اور خدا کے درمیان قرار پاتا ہے۔ بندہ یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ سے ڈر کر رہے گا اور اللہ اس کا ضامن ہوتا ہے کہ وہ دنیا و آخرت میں بندہ کا کفیل ہو جائے گا ۔ بندے کو اپنے عہد میں پورا اترنے کے لئے دو باتوں کا ثبوت دینا ہے۔ ایک یہ کہ وہ قوام اللہ بن جائے۔ یعنی وہ خدا کی باتوں پر خوب قائم رہنے والا ہو۔ اس کا وجود ہر موقع پر صحیح ترین جواب پیش کرے جو بندے کو اپنے رب کے لئے پیش کرنا چاہئے۔ وہ جب کائنات کو دیکھے تو اس کا ذہن خدا کی قدرتوں اور عظمتوں کے تصور سے سرشار ہو جائے ۔ وہ جب اپنے آپ کو دیکھے تو اس کو اپنی زندگی سراپا فضل اور احسان نظر آئے ۔ اس کے جذبات امنڈیں تو خدا کے لئے امڈیں۔ اس کی تو جہات کسی چیز کو اپنا مرکز بنائیں تو خدا کو بنائیں۔ اس کی محبت خدا کے لئے ہو ۔ اس کے اندیشے خدا سے وابستہ ہوں، اس کی یادوں میں خدا سمایا ہوا ہو۔ وہ خدا کی عبادت واطاعت کرے۔ وہ خدا کے راستے میں اپنے اثاثہ کو خرچ کرے، وہ اپنے آپ کو خدا کے دین کے راستے میں لگا کر خوش ہوتا ہو۔ عہد پر قائم رہنے کی دوسری شرط بندوں کے ساتھ انصاف ہے۔ انصاف کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے ساتھ کمی بیشی کئے بغیر وہ سلوک کرنا جس کا وہ باعتبار واقعہ مستحق ہے۔ معاملات میں حق کو اپنانا نہ کہ اپنی خواہشات کو۔ اس معاملہ میں بندے کو اتنا زیادہ پابند بننا ہے کہ وہ ایسے مواقع پر بھی اپنے کو انصاف سے باندھے رہے جب کہ وہ دشمنوں اور باطل پرستوں سے معاملہ کر رہا ہو، جب کہ شکایتیں اور تلخ یادیں اس کو انصاف کے راستہ سے پھیرنے لگیں۔
دنیا میں خدا نشانیوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی ایسے دلائل کی صورت میں جس کی کاٹ آدمی کے پاس موجود نہ ہو۔ جب آدمی کے سامنے خدا کی دلیل آئے اور وہ اس کو ماننے کے بجائے لفظی تکرار کرنے لگے تو اس نے خدا کی نشانی کو جھٹلایا۔ ایسے لوگ خدا کے یہاں سخت سزا پائیں گے۔ اور جن لوگوں نے اس کو مان لیا وہ خدا کے انعام کے مستحق ہوں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues