رسالت اور پیغمبری
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۳
رسالت اور پیغمبری
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غیر مسلم آئے اور آپ سے آپ کے پیغمبر ہونے کا ثبوت مانگا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کے پیغمبر حضرت موسیٰ عصا اور ید بیضا لے کر آئے جو لوگوں کے لئے ان کی پیغمبری کا ثبوت تھا۔ اسی طرح خدا کے پیغمبر حضرت عیسیٰ اندھوں کو بینا کرتے تھے اور کوڑھیوں کو اچھا کرتے تھے ، یہ ان کا معجزہ تھا جو ان کے پیغمبر خدا ہونے کو ثابت کرتا تھا۔ اسی طرح دوسرے پیغمبر بھی کوئی نہ کوئی معجزہ لائے اور اس کو اپنی پیغمبری کے ثبوت کے لئے پیش کیا۔ آپ بتائیں کہ آپ اپنی پیغمبری کے ثبوت کے لئے کیا معجزہ لائے ہیں۔ آپ نے خاموشی کے ساتھ ان کے سوال کو سنا اور اس کے بعد سورہ آل عمران کے آخر کی یہ آیتیں پڑھیں : زمین و آسمان کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں جو اٹھتے ، بیٹھتے اور لیٹتے ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی بناوٹ میں غور کرتے ہیں۔ وہ بے اختیار پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ، تو نے یہ سب کچھ بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے اس سے کہ تو عبث کام کرے ۔ پس اے ہمارے رب ، ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب ، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب کو مانو۔ ہم نے اس کی دعوت قبول کرلی ۔ اے ہمارے رب ، ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہم سے درگزر فرما۔ ہماری برائیوں کو دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر ۔۔۔۔ آل عمران پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ آیتیں پڑھ کر سنانا دوسرے لفظوں میں یہ کہنا تھا کہ میری نبوت کا ثبوت وہ پوری کائنات ہے جو تمھارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ زمین و آسمان کا پورا نظام اپنی خاموش زبان میں رسالت اور پیغام رسالت کی تصدیق کر رہا ہے۔ پھر اس کے بعد کسی اور معجزہ کی کیا ضرورت ۔ پیغمبر اسلام کی نبوت دائمی نبوت تھی۔ اس لئے آپ کے لئے وقتی معجزہ کار آمد نہ تھا۔ آپ کے لئے وہ معجزہ مفید تھا جو آپ کی نبوت کی طرح مستقل ہو اور آپ کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی باقی رہے۔ تاکہ ہر دور کا انسان اس کو دیکھ سکے۔ اسی لئے آپ نے خدا کی دنیا کو اپنے حق میں ابدی معجزہ کی حیثیت سے پیش کیا۔ قرآن میں عالمی نظام کے ان پہلوؤں کی نشان دہی کی گئی جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ انسان کی اصلاح کے لئے خدائی رہنمائی کا انتظام ہونا چاہئے۔
کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک سوال ہے اور پیغمبری اسی سوال کا جواب ۔ ہمارے سامنے ایک انتہائی عظیم اور مکمل دنیا ہے۔ وہ نہ صرف موجود ہے بلکہ ایک درجہ محکم نظام کے ساتھ مسلسل متحرک ہے۔ اس کے اندر نہ کوئی نقص ہے اور نہ کوئی خلا۔ وہ ناقابل قیاس پھیلاؤ اور تنوع کے باوجود کمال درجہ ہم آہنگ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues