Al-Risala · July 1980 · page 44

رسالت اور پیغمبری

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۴۴

اس کے اندر انتہائی با معنی سرگرمیاں جاری ہیں۔ وہ اپنے بے شمار اجزار کے ساتھ انتہائی محکم بنیادوں پر چل رہی ہے۔ ایسی ایک کائنات کو دیکھ کر فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا خالق و مالک کون ہے، کون ہے جو اس کو عدم سے وجود میں لے آیا۔ کائنات یہ انتہائی اہم سوال ہمارے سامنے لاتی ہے مگر وہ اس کا کوئی جواب نہیں دیتی۔ وہ ہم کو قوس قزح کا مشاہدہ کراتی ہے مگر وہ ہم کو اپنے خالق کا چہرہ نہیں دکھاتی۔ کائنات میں حرکت ہے، زندگی ہے، روشنی ہے، تخلیق ہے، مختلف قسم کی طاقتیں ہیں۔ حتیٰ کہ طرح طرح کے جانداروں کی صورت میں بولنے والی زبانیں بھی ہیں۔ مگر اس اہم ترین سوال کے بارے میں سب خاموش ہیں۔ کوئی بھی انسان کو اس سوال کا جواب نہیں دیتا۔ کسی پہاڑ کی چوٹی پر ایسا کوئی بورڈ لگا ہوا نہیں ہے جہاں اس سوال کا جواب لکھ دیا گیا ہو۔ یہ صورت حال پکار رہی ہے کہ کوئی بتانے والا ہو جو انسان کو اس سوال کے بارے میں بتائے۔

اسی کے ساتھ دوسرا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اس کائنات کا انجام کیا ہے۔ کائنات کی ہر چیز حرکت میں ہے ۔ زمین مسلسل سفر کر رہی ہے۔ شمسی نظام زمین اور دوسرے سیاروں کو لئے ہوئے ایک طرف کو چلا جا رہا ہے۔ پھر کہکشاں ہمارے شمسی نظام اور دوسرے ستاروں کو لئے ہوئے ہر لمحہ رواں دواں ہے۔ کائنات کا قافلہ اپنے تمام اجزار کے ساتھ کسی منزل کی طرف چلا جا رہا ہے۔ مگر کوئی بھی اپنی منزل کے بارے میں اعلان نہیں کرتا۔ کائنات کچھ نہیں بتاتی کہ وہ کہاں سے چلی ہے اور کہاں چلی جارہی ہے اور بالاخر اس کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ یہ شدید ترین اہمیت رکھنے والا سوال ہے۔ کیوں کہ کائنات کے تیز رفتار قافلہ میں انسان بھی شریک ہے اور وہ مسلسل ایک نامعلوم سفر کی منزلیں طے کر رہا ہے۔ اگر وہ اپنے سفر اور اپنی منزل کی بابت نہ جانے تو سارا سفر اندھیرے کا سفر بن جائے گا۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ یہاں کوئی انتظام ہو جو انسان کو اس معاملہ کی حقیقت سے باخبر کرے۔

پھر اسی سے متعلق یہ سوال ہے کہ انسان کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ آدمی کے سامنے بے شمار معاملات آتے ہیں اور ان کے درمیان ایک سے زیادہ طریقے اختیار کرنا اس کے لئے ممکن رہتا ہے، پھر انسان کون سا معیار اپنے سامنے رکھے۔ وہ کون سا طریقہ اختیار کرے اور کون سا طریقہ اختیار نہ کرے۔ انسان کے لئے راہ عمل کیا ہو۔ پانی کا راستہ زمین کے نشیب و فراز سے بن جاتا ہے۔ درخت سے لے کر ستاروں تک ہر چیز کا ایک نظام مقرر ہے جس پر وہ پابندی کے ساتھ چلے جا رہے ہیں۔ کائنات کی دوسری چیزوں کے لئے یہ سوال نہیں کہ وہ کسے لے اور کس کو چھوڑ دے۔ جب کہ انسان اپنے اختیار کی وجہ سے ہر وقت اس سوال سے دوچار رہتا ہے پوری کائنات میں انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جس کے سامنے کوئی معلوم اور مقرر راہ عمل نہیں ہے سورج ایک صدور جہ پابند نظام کے تحت ہر روز ہمارے لئے روشنی بھیجتا ہے مگر وہ ہماری اپنی زندگی کے سوال پر کوئی روشنی نہیں ڈالتا۔ ہوا ایک مکمل نظام کے تحت چلتی ہے اور پھولوں کی خوشبو ہمارے مشام تک پہنچاتی ہے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues

Printed page