Al-Risala · July 1980 · page 35

رسالت اور پیغمبری

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۵

مگر وہ ہمارے اصل مسئلہ کے بارے میں ہم کو کوئی خبر نہیں دیتی ۔ پانی ایک متعین قانون میں بندھا ہوا ہے ، وہ ہمارے لئے ٹھنڈک اور تراوٹ لے کر آتا ہے مگر ہماری تلاش کے بارے میں وہ ہماری کوئی مدد نہیں کرتا ۔ زمین اپنی محوری گردش کے ذریعہ ہر روز ہمارے لئے دن لاتی ہے اور رات کا پردہ ہمارے اوپر سے ہٹاتی ہے گردہ زندگی کے بھید کا پردہ نہیں کھولتی ۔ درخت زمین کو پھاڑ کر نکلتے ہیں اور ایک منظم کارخانہ کی طرح عمل کرتے ہوئے ہمارے لئے سایہ اور رزق فراہم کرتے ہیں ۔ مگر وہ ہماری ذہنی غذا کے لئے ہمیں کوئی چیز فراہم نہیں کرتے ۔ چڑیاں چہچہاتی ہیں ، ان کو اپنی زندگی کا نظام پوری طرح معلوم ہے مگر وہ ہماری قابل فہم زبان میں ہم کو کوئی پیغام نہیں دیتیں ۔ ستارے اور سیارے اپنے نظام میں ایک سیکنڈ کا فرق کئے بغیر دوڑ رہے ہیں مگر وہ نہیں بتاتے کہ وہ کون سی منزل ہے جس کی طرف انسان کورواں دواں ہونا چاہئے ۔ کائنات کی ہر چیز ایک ہی مقرر راستہ پر چل رہی ہے ، حقیر چیونٹی سے لے کر عظیم کہکشائوں تک سب کے سب اپنے مقرر نظام کے اس طرح پابند ہیں جیسے ان کو اپنی راہ عمل پوری طرح معلوم ہو۔ یہاں صرف ایک انسان ہے جو اپنی راہ عمل سے بے خبر ہے۔ ایک باخبر کائنات میں وہ بالکل بے خبر حالت میں کھڑا ہو اتمام چیزوں کو دیکھ رہا ہے۔ وہ ہر چیز کو اپنی منزل کی طرف جاتا ہوا دیکھتا ہے مگر اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ خود کیا کرے اور کدھر جائے ۔ کائنات میں جتنی بھی چیزیں ہیں سب کا ایک نظام عمل مقرر ہے جس پر وہ حد درجہ پابندی کے ساتھ قائم ہیں۔ یہاں صرف ایک انسان کا استثنا ہے ۔ انسان واحد مخلوق ہے جو کسی نظام میں بندھا ہوا نہیں ہے۔ وہ اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ زمین اپنے مدار میں گھومتی ہے۔ وہ دوسرے سیاروں کے مدار میں داخل نہیں ہوتی ۔ ایک متعین صورت حال جہاں دوسری چیزیں ہمیشہ ایک ہی رخ اختیار کرتی ہیں، انسان کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ کئی رخ اختیار کرسکے ۔ وہ اپنے " مدار " سے نکل کر دوسرے کے " مدار " میں مداخلت کرنے لگے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کے لئے راہ عمل پانے کا معاملہ اس سے مختلف ہے جو بقیہ کائنات کا ہے ۔ بقیہ چیزیں اپنے لئے راہ عمل خود اپنے ساتھ لاتی ہیں مگر انسان کو اپنی راہ عمل باہر سے حاصل کرنا ہے ۔

مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ انسان اپنی راہ عمل خود دریافت نہیں کر سکتا ۔ انسان عقل و فہم رکھتا ہے مگر اس کی عقل و فہم اصل مسئلہ کی نسبت سے اتنی محدود ہے کہ کسی طرح بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی کوشش سے اس سوال کا جواب معلوم کر سکے ۔ پچھلے ہزاروں سال کی تاریخ نے اس کو تجرباتی سطح پر ثابت کر دیا ہے۔ کائنات کے اندر اپنے سوال کا جواب نہ پا کر انسان نے خود تحقیق شروع کی ۔ مگر نسلوں کی کوششیں بھی اس کو کسی ایسی بات تک نہ پہنچا سکیں جس پر وہ یقین کر سکے ۔ اس نے ستاروں اور سیاروں کی حرکت کے اصول معلوم کر لئے مگر انسان کے سفر اور اس کے آغاز وانجام کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ کر سکا ۔ اس نے جمادات ، نباتات اور حیوانات کا قانون دریافت کر لیا مگر خود انسان کا قانون دریافت کرنے میں ناکام رہا ۔ اس نے یہ جان لیا کہ مادہ فنا ہوتا ہے تو انرجی

‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues

Printed page