رسالت اور پیغمبری
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۴۳
بن جاتا ہے ار انرجی ختم ہوتی ہے تو وہ مادہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے مگر انسان مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے اس کی بابت وہ کچھ نہ جان سکا۔ اس نے معلوم کر لیا کہ کائنات کی تمام چیزیں ایک ہی محکم قانون میں بندھی ہوئی ہیں اور اس سے ادنیٰ انحراف کئے بغیر کھرب ہا کھرب سال تک چلتی رہتی ہیں ۔ مگر انسان کا قانون حیات کیا ہو، اس کے بارے میں وہ کچھ معلوم نہ کر سکا ۔ اس نے کائنات کی وسعتوں کو اپنے آلات کی مدد سے دیکھ لیا اور انتہائی چھوٹے ایٹم کے اندرونی نظام کا پتہ کر لیا ۔ مگر انسان کی حقیقت کیا ہے، وہ کس منصوبہ کے تحت وجود میں آیا ہے، اس کی بابت وہ کچھ نہ جان سکا۔ انسان کی سب سے بڑی ضرورت کے بارے میں انسان کی یہ مجبوری ثابت کرتی ہے کہ اس کو اس بارے میں ایک خصوصی رہنما در کار ہے۔ اس سے پیغمبر کی ضرورت پوری طرح ثابت ہو جاتی ہے۔ انسان اپنی زندگی کو بامعنی بنانے کے لئے پیغمبر کا لازمی طور پر محتاج ہے۔ اس کے بعد جب ہم ان تعلیمات پر غور کرتے ہیں جو پیغمبر نے پیش کی ہیں تو مزید یقین ہو جاتا ہے کہ پیغمبر فی الواقع انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ پیغمبر کی بتائی ہوئی باتیں ان تمام سوالات کا تسلی بخش اور مکمل جواب ہیں جو انسان کو درپیش ہیں۔ یہ تعلیمات خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ پیغمبر واقعی اللہ کی طرف سے ہے ۔ اللہ نے اس کو حقیقت کا علم دے کر انسانوں کی رہنمائی کے لئے بھیجا ہے۔ بقیہ چیزوں کا قانون عمل ان کے پیدا کرنے والے نے اندرونی طور پر ان کے اندر رکھ دیا اور انسان کا قانون عمل پیغمبر کے ذریعہ اس کے پاس بھیجا۔ پیغمبر ہم کو بتاتا ہے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے اور وہ اپنی غیر معمولی قدرت کے ساتھ اس نظام کو چلا رہا ہے۔ اس جواب سے زیادہ صحیح جواب کوئی اور نہیں ہو سکتا ۔ یہ جواب ایسا ہی ہے جیسے ایک مشین بہت عمدہ چل رہی ہو۔ لوگ اس کی کارکردگی کو دیکھ کر حیران ہوتے ہوں۔ مگر اس کی ساخت اس پر لکھی ہوئی نہ ہو۔ اب ایک واقف کار یہ کہے کہ یہ فلاں کارخانہ کی بنی ہوئی ہے جو دنیا بھر میں انجینئرنگ کا سب سے اچھا کارخانہ ہے۔ یہ بات معلوم ہوتے ہی دیکھنے والوں کی الجھن ختم ہو جائے گی کیونکہ اب ان کو مشین کی اعلیٰ کارکردگی کی توجیہہ مل گئی۔ اسی طرح ایک عظیم کائنات کا موجود ہونا اور پھر اس کا حد درجہ محکم طریقہ پر چلنا اس کے بارے میں یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ وہ کیوں کر بنی اور کیسے چل رہی ہے ۔ جب پیغمبر یہ کہتا ہے کہ ایک خدا ہے جس نے اس کو بنایا اور جو اس کو اپنی خدائی طاقتوں سے چلا رہا ہے تو فوراً اہم کو اپنے سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ یہ جواب ہمارے لئے ذرا بھی بعید از قیاس نہیں۔ کیوں کہ خدا کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو ماننا۔ ہم اپنی ذات کی سطح پر ایک ایسے وجود کا تجربہ کر رہے ہیں جو دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جو سوچتا ہے، جو چلتا ہے، جو پکڑتا ہے، جو منصوبہ بناتا ہے ، جو واقعات کو ظہور میں لاتا ہے۔ " انسان " کی صورت میں جن قوتوں کو ہم محدود و طور پر دیکھ رہے ہیں وہی قوتیں زیادہ کامل طور پر خدا کی صورت میں موجود ہوں تو اس میں تعجب کی بات کیا ہے ۔ یہ تو گویا اسی واقعہ کو زیادہ بڑے پیمانہ پرماننا ہے جس کا ہر وقت ہم چھوٹے پیمانہ پر تجربہ کر رہے ہیں۔ " میں " ہوں یہی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ " خدا " ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues