Al-Risala · July 1980 · page 37

رسالت اور پیغمبری

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۷

دوسری بات جو پیغمبر بتاتا ہے وہ یہ کہ یہ کائنات بے انجام نہیں ۔ اس کا ایک انجام ہے جو موت کے بعد سامنے آنے والا ہے ۔ آدمی کو بظاہر اس دنیا میں جو آزادی حاصل ہے وہ صرف امتحان کے لئے ہے۔ یہ آزادی ایک خاص مدت تک ہے ۔ اس مدت کے ختم ہونے کے بعد موجودہ نظام توڑ دیا جائے گا ۔ اور نیا زیادہ کامل اور ابدی نظام بنایا جائے گا ۔ وہاں خدا اپنی طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا جو اس وقت امتحان کی مصلحت کی بنا پر غیب کے پردہ میں چھپا ہوا ہے ۔ آج کی دنیا میں ہر ایک کو فائدہ اٹھانے کا موقع ہے ۔ مگر آنے والی دنیا میں خدا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا حق صرف ان لوگوں کو ہوگا جنھوں نے حالتِ غیب میں خدا کی وفاداری کی ہوگی ۔ بقیہ تمام لوگ خدا کی نعمتوں سے دور پھینک دئے جائیں گے ۔ پیغمبر کی یہ خبر بھی پوری طرح سچائی کے مطابق معلوم ہوتی ہے ۔ ایک ایسا خدا جس نے دیکھنے اور سمجھنے والے انسان کو بنایا ، کیسی عجیب بات ہوگی کہ انسان یوں ہی پیدا ہو کر مر جائے اور اس کا خدا اس کے سامنے ظاہر نہ ہو کہ وہ اس کو دیکھے اور جانے۔ پھر موجودہ کائنات اتنی با حکمت ہے کہ کسی طرح بھی یہ بات قابلِ تصور نہیں ہے کہ اس کا کوئی انجام نہ ہو ، کوئی ایسا دن نہ آئے جہاں ظلم ظلم کی صورت میں اور انصاف انصاف کی صورت میں نمایاں ہو۔ پیغمبر کی خبر عین وہی ہے جس کا انسانی فطرت تقاضا کر رہی تھی ، ایک ایسی دنیا جہاں عدم سے وجود کے مظاہرے ہوتے ہوں ۔ جہاں رات کے بعد دن آتا ہو ، جہاں ایک معمولی بیج سے بے شمار بڑے بڑے درخت پیدا ہوتے ہوں ۔ جہاں ”آج “ ہمیشہ ”کل“ میں تبدیل ہوتا ہو ، ایسی دنیا کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کی ایک آخرت ہے حد درجہ قابلِ فہم ہے ۔ جو دن ہم ہر روز نکلتا دیکھتے ہیں ، یہ اسی کے زیادہ بڑے پیمانہ پر نکلنے کی خبر ہے۔ جو کل ہر روز ہمارے اوپر آتی ہے یہ اسی کے زیادہ بڑی صورت میں ظاہر ہونے کی اطلاع ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر ہماری اپنی فطرت کی مانگ کو شعور تک پہنچاتا ہے ، جس بات کے اشارے آج بھی کائنات میں موجود ہیں اس کو وہ یقینی علم کا درجہ عطا کرتا ہے ۔

پیغمبر نے انسان کے لئے جو راہِ عمل بتائی ہے وہ بھی حد درجہ قابلِ فہم ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ پیغمبر کا یہ دعویٰ بالکل صحیح ہے کہ وہ خدا کا بھیجا ہوا ہے۔ کیوں کہ اتنی صحیح بات وہی کہہ سکتا ہے جو خدا کی طرف سے بول رہا ہو۔ پیغمبر یہ بتاتا ہے کہ انسان کے لئے راہِ عمل یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے ۔ عبادت کا مطلب ہے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دینا ۔ اسی سے ڈرنا اور اسی سے محبت کرنا۔ اللہ ہی کو اپنا سب کچھ بنالینا۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک ایسا وجود ہے جو اپنی توجہات کا ایک مرکز چاہتا ہے۔ اس کو کوئی ایسا نقطہ درکار ہے جس کے اوپر وہ اپنی سوچ اور اپنے جذبات کو مرتکز کر سکے ۔ یہ انسان کی ایسی ضرورت ہے جس سے وہ کسی حال میں خالی نہیں ہو سکتا ، اور نہ کوئی ایسا شخص موجود ہے جو اس سے خالی ہو۔ کسی کا مرکز توجہ اس کے بیوی بچے ہیں ، کسی کا مرکز اس کا قبیلہ اور برادری ہے ، کسی کا مرکز تو چہ قوم اور وطن ہے ۔ کوئی دولت کو اور کوئی اقتدار کو اپنا مرکز توجہ بنائے ہوئے ہے ۔ مگر ان میں سے کوئی بھی چیز نہیں جو حقیقتہً اس قابل ہو کہ انسان

‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues

Printed page