Al-Risala · July 1980 · page 38

رسالت اور پیغمبری

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۸

اس کو اپنا مرکز توجہ بنائے ۔ مرکز توجہ بننے کے قابل وہ ہو سکتا ہے جو انسان کو سہارا دے سکے۔ جو زندگی کے انجام کو بہتر بنانے میں انسان کی مدد کر سکتا ہو۔ مگر ان میں سے کسی چیز کو بھی یہ طاقت حاصل نہیں ۔ یہ تمام چیزیں خود ہی دوسروں کی محتاج ہیں پھر وہ کسی انسان کی کیا مدد کر سکتی ہیں ۔ پھر مرکز توجہ بننے کے قابل وہ ہے جس کو بیک وقت سارے انسان مرکز توجہ بنائیں اور اس کے باوجود معاشرے میں کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو۔ مگر ان میں سے ہر چیز کا معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ وہ تمام چیزیں جن کو آدمی عام طور پر مرکز توجہ بناتا ہے وہ محدود ہیں۔ ایک آدمی کا انھیں پانا ہمیشہ دوسرے آدمی کی محرومی کی قیمت پر ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سماج میں مستقل چھین جھپٹ جاری رہتی ہے ۔ ایک شخص جب پاتا ہے تو وہ دوسرے شخص سے چھین رہا ہوتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف خدا ہی کی شان ہے کہ بیک وقت سارے انسان اس کو پانے کے لئے دوڑیں اور پھر بھی لوگوں میں کوئی ٹکراؤ پیدا نہ ہو۔ کیوں کہ خدا مادی چیزوں سے بلند ہے ، خدا ہر قسم کی محدودیت سے پاک ہے ۔ انسانی سماج کا بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خواہ کتنا ہی اچھا قانون بنایا جائے ، انسان اس سے بچنے کا راستہ تلاش کر لیتا ہے ۔ کسی کے پاس طاقت ہے تو وہ طاقت کے بل پر دھاندلی کرتا ہے ۔ کسی کے پاس دولت ہے تو وہ دولت کے ذریعہ انصاف کو خرید لیتا ہے ۔ کسی کے پاس الفاظ ہیں تو وہ خوبصورت الفاظ کے ذریعہ اپنے ظلم کو عدل ثابت کرتا ہے ۔ غرض ہر ایک اپنے ناحق کو حق ظاہر کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی تدبیر پا لیتا ہے ۔ مگر جب خدا کو درمیان میں کھڑا کر دیا جائے تو ہر آدمی محسوس کر لیتا ہے کہ اس کی تدبیریں بے معنی ہیں ۔ تمام تدبیریں اسی وقت تک تدبیریں ہیں جب تک معاملہ انسان اور انسان کے درمیان ہو۔ جب معاملہ کو انسان اور خدا کا معاملہ بنا دیا جائے تو ہر آدمی مکمل طور پر سنجیدہ اور محتاط ہو جاتا ہے ۔ کیوں کہ خدا سے نہ کوئی بات چھپائی جاسکتی اور نہ وہاں کسی قسم کا کوئی زور چل سکتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا پرستی ہی واحد بنیاد ہے جس سے لوگوں میں قانون کے احترام کا جذبہ پیدا کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے سوا کوئی بنیاد نہیں جس سے یہ مقصد حاصل ہو سکے ۔ دنیا میں صحیح نظام بنانے کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت پڑتی ہے وہ قربانی ہے ۔ کہیں کسی کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے کو چھوڑ نا پڑتا ہے ۔ کہیں اپنے ایک کریڈٹ کو دوسرے کے حوالے کرنے پر راضی ہونا پڑتا ہے ۔ کہیں اپنے گھر والوں کے مفاد کے مقابلہ میں دوسروں کے مفاد کو ترجیح دینی پڑتی ہے ۔ کہیں اپنی محنت سے کمائے ہوئے مال کو دوسروں کے حوالے کر دینا پڑتا ہے ۔ کہیں ایک ایسے کام میں اپنی قوتیں کھپانے کا سوال ہوتا ہے جس میں بظاہر کچھ ملنے والا نہیں ہے ۔ جب تک افراد میں اس قسم کی قربانی کا مزاج نہ ہو حقیقی معنوں میں کسی درست نظام کا قائم ہونا ممکن نہیں ۔ اس کے بغیر ہر آدمی اپنی بات پر اصرار کرے گا اور نتیجہ پورا سماج چھین جھپٹ کا سماج بن جائے گا ۔ اگر یہی موجودہ دنیا سب کچھ ہو تو آدمی اس قسم کی قربانیاں کیوں کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ جس سماج میں خدا کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کو مرکز توجہ بنایا جائے وہاں مستقل فساد برپا رہتا ہے ۔ لوگ قربانی دینے پر تیار نہیں ہوتے اس لئے صالح ماحول بننے کی نوبت ہی نہیں آتی ۔ مگر پیغمبر زندگی کے جس مقصد کی

‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues

Printed page