رسالت اور پیغمبری
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۹
نشان دہی کرتا ہے اس میں یہ مسئلہ نہایت خوبی کے ساتھ حل ہو جاتا ہے۔ اب قربانی کرنے کے لئے بہت بڑا محرک مل جاتا ہے۔ اب انسان جان لیتا ہے کہ اس کی ہر قربانی کی اللہ کے یہاں بہت بڑی قیمت ہے جو مرنے کے بعد اس کو ابدی زندگی میں لوٹائی جائے گی۔ یہ ذہن انسانی سماج میں ہر قسم کے ظلم کی جڑ کاٹ دیتا ہے اور حق و انصاف کے لئے مضبوط ترین بنیاد فراہم کر دیتا ہے۔ اب ہر شخص اس قربانی کے لئے تیار ہو جاتا ہے جو ماحول کو صالح بنانے کے لئے ضروری ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جو دین لے کر آئے وہ وہی دین ہے جو خدا کے دوسرے پیغمبر لے کر آئے تھے۔ مگر دوسرے پیغمبروں کا دین ان کے بعد محفوظ نہ رہ سکا۔ ان کے بعد ان کے دین کے ماننے والے اتنے طاقت ور ثابت نہ ہو سکے کہ ان کے دین کو اس کی اصلی صورت میں محفوظ رکھ سکتے ۔ پیغمبر اسلام کو اللہ تعالیٰ نے آخری نبی کی حیثیت سے بھیجا اور ان کی خصوصی مدد کر کے ان کو تمام قوموں اور مذہبوں کے اوپر غالب کر دیا ۔ آپ کی یہ غیر معمولی فتح ایک طرف آپ کے پیغمبر خدا ہونے کی دلیل بن گئی ۔ آپ کی کامیابی اتنی غیر معمولی تھی کہ دنیا میں کبھی کسی کو ایسی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ یہ واقعہ اس بات کا ایک محسوس ثبوت ہے کہ آپ خدا کی طرف سے تھے اور خدا نے اپنی خصوصی مدد سے آپ کو یہ غلبہ اور کامیابی عطا فرمائی ۔ کوئی عام آدمی کبھی اس قسم کی کامیابی پر قادر نہیں ہو سکتا۔ دوسری طرف آپ کی اسی کامیابی کے ذریعہ آپ کے لائے ہوئے دین کی مستقل حفاظت کا انتظام ہو گیا۔ آپ کی اس کامیابی کی وجہ سے آپ کے ماننے والوں کی ایک بہت بڑے رقبہ پر طاقت ور حکومت قائم ہو گئی۔ یہ حکومت آپ کے دین کی دائمی محافظ بن گئی ، چنانچہ آپ کی آمد کو چودہ سو سال ہوگئے اور آج تک آپ کے دین میں کوئی تبدیلی نہ ہو سکی ۔ وہ اسی خالص صورت میں محفوظ ہے جس صورت میں آپ نے اس کو دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی پیغمبر آنے والا نہیں۔ آپ قیامت تک کے لئے تمام انسانوں کے اوپر خدا کے پیغمبر ہیں۔ نیا پیغمبر آنے کی ضرورت ہمیشہ اس لئے پڑتی ہے کہ خدا کا دین اپنی اصلی صورت میں محفوظ نہ رہا ہو۔ پچھلے زمانہ میں بار بار ایسا ہوا کہ آسمانی کتاب کی حامل قو میں اپنی کتاب کو ضائع کرتی رہیں۔ اس لئے بار بار نبی آئے تاکہ خدا کی تعلیمات کو زندہ کریں اور ان کو دوبارہ ان کی صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کر دیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی صورت میں جو کتاب پیش کی وہ مکمل طور پر اپنی ابتدائی صورت میں محفوظ ہے اور پریس کا دور آنے کے بعد آخری طور پر محفوظ ہو چکی ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آپ آج بھی ایک زندہ نبی کی حیثیت سے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ کیوں کہ آپ کے اقوال، آپ کے حالات، آپ کی پیغمبرانہ جد و جہد ، غرض آپ کے پورے عمل کا ریکارڈ اس طرح مکمل طور پر محفوظ ہے کہ جب ہم اس کو پڑھتے ہیں تو گویا کہ ہم آپ کو اپنے درمیان محسوس کرنے لگتے ہیں۔ بحیثیت رسول آپ نے جو کچھ کیا وہ سب کا سب ہم شروع سے آخر تک آج بھی معتبر کتابوں میں دیکھ رہے ہیں۔ ایسی حالت میں اب نیا نبی آنے کی کیا ضرورت ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues