رسالت اور پیغمبری
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۴۰
الا هل عسى رجل يبلغه الحديث وهو متكىٔ سند۔ ایسا ہوگا کہ ایک شخص کے پاس میری حدیث پہنچے علی اریکته فیقول : بیننا وببینکم کتاب الله نما گی۔ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا ہوگا ، دہ وجدنا فیه حلالاً استحللنا ها وما وجدنا فیه سن کر کہے گا : ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے۔ ہم اس میں جو چیز حلال پائیں گے اس کو حلال قرار دیں گے ۔ اور جس چیز کو اس میں حرام پائیں گے اس کو حرام قرار دیں گے ۔ حالاں کہ جو اللہ کے رسول نے حرام کیا وہ ویسا ہی ہے جیسے اللہ نے حرام کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی موجودہ زمانہ میں پوری ہو گئی ہے۔ آج ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہدایت کے لئے صرف قرآن کافی ہے۔ ہم قرآن کو مانیں گے اور حدیث کو نہ مانیں گے۔ مگر یہ اتنی زیادہ بے معنی بات ہے کہ جو شخص ایسا کہے وہ صرف یہ اعلان کر رہا ہے کہ اس کی دیانت داری حد درجہ مشکوک ہے ۔ حتی کہ یہ یقین کرنا بھی مشکل ہے کہ وہ خدا کی کتاب کو صحیح معنوں میں مانتا ہے۔ کیوں کہ خدا کی کتاب کو ماننا اور خدا کی کتاب لانے والے کی بات کو نہ ماننا دونوں ایسی متضاد باتیں ہیں جو کسی ایک ذہن میں سنجیدگی کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں ۔
رائیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو سنجیدہ رائے ہو۔ دوسری وہ جو آدمی کی سنجیدہ رائے نہ ہو بلکہ اس نے محض تفنن یا شرارت کے طور پر اس کو اختیار کر لیا ہو۔ اس کی وضاحت کے لئے ایک مثال لیجئے ۔ قرآن میں یہ حکم ہے کہ دشمنوں کے مقابلہ میں قوت فراہم کرو (انفال (۶۰) یہاں قوت سے کیا مراد ہے ، اس سلسلہ میں حدیث میں آیا ہے کہ قوت سے مراد تیراندازی ہے (الا ان القوة الرمی) اب ایک شخص رمی کو وسعت دے کر کہہ سکتا ہے کہ اس سے مراد دور مار ہتھیار ہیں۔ دوسرا شخص لفظی مفہوم پر اصرار کرتے ہوئے کہہ سکتا ہے کہ اس سے مراد تیر کمان والی طاقت فراہم کرنا ہے ۔ یہ دونوں رائیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ، تاہم یہ ممکن ہے کہ دونوں اپنی اپنی جگہ سنجیدہ ہوں اور پوری نیک نیتی کے ساتھ انھوں نے اپنی رائیں قائم کی ہوں۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ رمی کے معنی عربی زبان میں تہمت لگانے کے بھی آتے ہیں۔ اور یہاں یہ مراد ہے کہ دشمنوں پر خوب تہمت لگاؤ اور ان کی عیب جوئی کرکے ان کے مقابلہ میں طاقت حاصل کرو تو یہ ایک فضول بات ہوگی ۔ یہ کوئی رائے نہیں بلکہ محض شوشہ ہے۔ حقیقی اظہار رائے کے لئے آدمی کا سنجیدہ ہونا ضروری ہے ۔ جو اظہار رائے غیر سنجیدہ ذہن سے نکلا ہو، اس کو اظہار رائے نہیں کہا جا سکتا۔ اس قسم کی تشریح نہ قواعد زبان کے اعتبار سے درست ہے اور نہ عقل
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues