رسالت اور پیغمبری
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۴۱
فہم کے اعتبار سے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حدیث دین میں حجت نہیں ہے وہ اسی دوسری قسم کی غلطی میں مبتلا ہیں۔ ان کی اس رائے کو رائے نہیں کہا جاسکتا بلکہ اسے فتنہ انگیزی کہا جائے گا کیونکہ قرآن کو ماننا اور حدیث کو ماننا اتنی زیادہ غیر معقول بات ہے کہ کوئی آدمی سنجیدگی کے ساتھ بھی ایسی بات نہیں کہہ سکت۱۔ ا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن سے متعلق دو ذمہ داریاں تھیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ آپ پر اترا ہے اس کو آپ اسی طرح پڑھ کر لوگوں کو سنا دیں (روان اتلو القرآن ، نمل ۹۲) دوسری ذمہ داری یہ تھی کہ آپ لوگوں کے سامنے اترے ہوئے قرآن کی تشریح و توضیح کریں :
وانزلنا اليك الذكر لتبين للناس ما نزل اور یہ قرآن ہم نے تمھارے اوپر اتارا تا کہ تو لوگوں (نحل ۳۹) کے سامنے وہ چیز بیان کر دے جو ان کے لئے اتری ہے تا کہ وہ غور کریں۔
پہلی ذمہ داری کے تحت آپ کو صرف یہ کرنا تھا کہ جو الفاظ آپ پر اتارے گئے ہیں ان کو ان کی اصلی صورت میں پڑھ کر سنا دیں ۔ مگر دوسرا کام جو تبیین و وضاحت کا کام تھا ، اس کے لئے ضروری تھا کہ آپ نازل شدہ الفاظ کے علاوہ مزید الفاظ بولیں ۔ انھیں مزید وضاحتی الفاظ کا نام حدیث ہے۔ یہ مزید الفاظ اگر چہ داخل قرآن نہیں ہیں مگر وہ آپ کے منصب رسالت کا لازمی جز رہیں ۔ یہ خود خدا کے حکم کے تحت اور اس کے منصوبے کے مطابق بولے گئے ہیں۔ اس لئے اللہ کی مرضی کو جاننے کے لئے وہ بھی اسی طرح مستند ہیں جس طرح قرآن مستند ہے اللہ کی قربت چاہنے والا کوئی بندہ جس طرح اللہ کی کتاب کو نظر انداز نہیں کر سکتا ، اسی طرح وہ اللہ کے رسول کے کلام کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ان میں جدائی ممکن نہیں۔
۲۔ قرآن ہم کو رسول کے ذریعہ سے ملا ہے۔ رسول کے کہنے ہی کی وجہ سے ہم یہ مانتے ہیں کہ یہ خدا کی کتاب ہے۔ پیغمبر کی صداقت پر ایمان لا کر ہی ہم قرآن کی صداقت پر ایمان لاتے ہیں۔ پھر اسی پیغمبر کی زبان سے نکلی ہوئی دوسری باتوں کو ہم کیوں کر جھٹلا دیں گے۔ ابو داؤد کی روایت کے مطابق پیغمبر نے فرمایا : سن لو، مجھے یہ قرآن دیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ اس کا مثل بھی (الا انی اوتیت هذان الکتاب و مثلہ معہ) ہم نے اپنی آنکھوں سے نہ جبریل کو دیکھا اور نہ یہ کہ جبریل آپ کو کتاب اللہ کی تعلیم کر رہے ہیں ۔ صرف پیغمبر کے کہنے پر ہم یہ مانتے ہیں کہ آپ کو وحی متلو دی گئی ہے۔ پھر رہی پیغمبر جب یہ کہے کہ مجھ کو وحی غیر متلو بھی دی گئی ہے تو اس کے بعد کسی کے پاس وہ کون سی دلیل ہے جس کی بنا پر وہ یہ کہنے کا حق رکھتا ہے کہ وحی متلو کی حد تک وہ پیغمبر کے بیان کو مانے گا اور وحی غیر متلو کے بارے میں وہ پیغمبر کے بیان کو چھوڑ دے گا۔ اس قسم کی متضاد رائے رکھنے کا کسی کے پاس کوئی منطقی جواز نہیں۔
۳۔ قرآن کو ماننے کے بعد علی طور پر کسی کے پاس حدیث کو جانچنے کا صرف ایک ہی معیار رہ جاتا ہے اور وہ وہی ہے جس کا اعتبار خود قرآن کے سلسلے میں کیا جاتا ہے ۔ یعنی روایت ۔ جس کتاب کو ہم قرآن کہتے ہیں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues