البدر جولائی ۱۹۸۰
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۴۲
اس کو بھی ہم قرآن اسی لئے سمجھتے ہیں معتبر راویوں کی کثرت سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ وہی کتاب ہے جس کو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ کہہ کر پیش کیا تھا کہ یہ میرے پاس خدا کی طرف سے اتری ہے۔ اسی طرح معتبر راویوں کے ذریعہ جب یہ ثابت ہوجائے کہ فلاں قول یا فلاں حکم آپ کی زبان مبارک سے نکلا ہوا قول یا حکم ہے تو صرف یہ ثابت ہوجانا ہی کافی ہے کہ اس کو بھی اسی طرح مقدس مانا جائے جس طرح قرآن کو مقدس مانتے ہیں۔ معتبر راویوں کے ذریعہ کسی حدیث کا آپ سے انتساب ثابت ہوجانے کے بعد اس کو نہ ماننا صرف حدیث کو نہ ماننا نہیں ہے بلکہ یہ خود قرآن کو نہ ماننا ہے کیونکہ حدیث اور قرآن دونوں جب راویوں کے ایک ہی سلسلے سے ہم تک پہنچ رہے ہوں تو حدیث کے معاملے میں ان کی خبر رسانی کو مشکوک سمجھنے کے بعد قرآن کے معاملے میں ان کی خبر رسانی کو قابل اعتماد سمجھنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔ ۴- یہ ایک معلوم اور مسلم بات ہے کہ قرآن میں عام طور پر دین کے اساسی احکام ہیں، ان کی عملی تفصیلات قرآن میں درج نہیں ہیں۔ اب جو شخص قرآن کو ماننے میں سنجیوہ ہو وہ کبھی حدیث کے حجت ہونے پر شبہ نہیں کرسکتا، کیونکہ نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے لے کر حدود کی اقامت تک کسی بھی قرآنی حکم پر وہ عملاً کاربند نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ حدیث اور سنت سے مدد نہ لے۔ ایک آدمی اگر فی الواقع قرآن کو مانتا ہے تو ضرور در ایس ہوگا کہ قرآن میں جب وہ پڑھے فاقہ نماز ادا کرو" تو وہ چاہے گا کہ قرآنی حکم کی تعمیل میں نماز ادا کرے، مگر اس کے بعد جب وہ قرآن میں اس کی عملی تفصیل ڈھونڈے گا تو وہاں اس کو اس کی تفصیل نہیں ملے گی۔ اب اگر وہ سنجیدہ ہے تو لازماً اس کی تلاش اس کو سنت تک لے جائے گی، کیوں کہ سنت کے سوا کوئی بھی دوسرا ذریعہ نہیں جس سے کوئی طالبِ قرآن یہ جان سکے کہ اقیموا الصلوٰۃ کے حکم کی تعمیل کی عملی صورت کیا ہے۔
اس معاملے کے دو پہلو ہیں اور دونوں ہی کی تعمیل پیغمبر کی سنت سے ہوتی ہے۔ بعض اعمال ایسے ہیں جن کی صرف لفظی تفصیل بتانا کافی نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ ان کو کر کے دکھایا جائے۔ آدمی بالفعل ان کے دیکھنے کے بعد ہی ان پر عمل کرسکتا ہے۔ دوسرے اعمال دہ ہیں جن کے لئے اگرچہ عملی مظاہرہ ضروری نہیں مگر ان کو زیرِ عملی لانے کے لئے تفصیلی قواعد کی تشکیل ضروری ہوتی ہے۔ عبادات کا تعلق زیادہ تر پہلی قسم سے ہے اور حدود کا تعلق زیادہ تر دوسری قسم سے۔ یہ دونوں ہی باتیں وہ ہیں جن کو ہم صرف قرآن سے معلوم نہیں کرسکتے۔ ایک عالم نے اپنے سفرِ حجاز کے تاثرات کے ذیل میں لکھا تھا : کتبِ فقہ و حدیث کے درس و تدریس یا بہ نہیں پچیس سالہ مشغولیت کی بنا پر گمان تھا کہ بغیر کسی راہ نما کے بآسانی عمرہ کی ادائیگی مسنون طریقہ پر کی جا سکے گی۔ مگر بیت اللہ پہنچ کر اندازہ ہوا کہ تنہا کتابی علم نہ صرف کافی نہیں بلکہ عملی نمونہ کے بغیر علم سفینہ کیا علم سینہ بھی بے راہ ہی نہیں گمراہ بھی بنا سکتا ہے (الفرقان جون 1979) قرآن میں عبادت کے سلسلہ میں صرف اساسی احکام دئے گئے ہیں۔ ان کی تفصیل حدیث میں ملتی ہے۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ صرف لفظی احکام کو پڑھ کر کوئی شخص صحیح طور پر عبادت کی ادائگی نہیں کرسکتا۔ یہ ایسا کام ہے جو دیکھ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ نماز اس طرح پڑھو جیسے تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو (صلوا كما رأيتموني اصلي، بخاری) حج کے بارے میں آپ نے فرمایا: تم مجھ کہ سے حج کے طریقے سیکھ لو (خذوا عني مناسککم، مسلم)۔
البدر جولائی ۱۹۸۰
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues