البدر جولائی ۱۹۸۰
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۴۳
دیکھ کر حج کے طریقے سیکھ لو (خد مناسککم، مسلم) صحابہ کرام نے رسول کو دیکھ کر عبادت کی، ان سے تابعین نے دیکھا اور ان سے تبع تابعین نے ۔ اور اس طرح یہ سلسلہ ہوتے ہوتے ہم تک پہنچ گیا۔ اگر اس سلسلہ کو کاٹ دیا جائے اور رسول کے عملی نمونہ کو سامنے رکھے بغیر عبادت کرنے کی کوشش کی جائے تو کوئی شخص نہ اقیموا الصلوٰة پر عمل کر سکتا ہے اور نہ اتموا الحج پر۔
قرآن میں بہت سے جرائم کی سزائیں بتائی گئی ہیں مگر وہ مہمل صورت میں ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں حکم ہے کہ چوری کرنے والے کے ہاتھ کاٹ دو (السارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیهما، مائدہ) آیت سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔ مگر اس حکم کو نافذ کرنے کے لئے بہت سی مزید تفصیلات درکار ہیں جن کا کوئی ذکر قرآن میں نہیں۔ مثلاً چوری کی تعریف کیا ہے۔ کتنے مقدار کی چوری پر حد جاری کی جائے گی۔ پھر یہ کہ دونوں ہاتھ کاٹے جائیں گے یا ایک ہاتھ ۔ جب ہاتھ کاٹا جائے گا تو کس مقام سے کاٹا جائے گا۔ اس طرح کے بہت سے سوالات ہیں جن کا جواب حدیث میں موجود ہے۔ اگر ہم حدیث کے تفصیلی بیانات کو شامل نہ کریں تو ہم قرآن کی بیان کردہ سزا کو عدالتی طور پر جاری نہیں کر سکتے ۔ ۵۔ عبداللہ بن عباس رم کہتے ہیں کہ قرآن میں جب یہ آیت اتری : اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو درد ناک عذاب کی خوش خبری دے دو۔ جس دن کہ اس کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیوں اور ان کے پہلووں کو اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا، یہی ہے وہ جس کو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا۔ پس اب اپنے جمع کرنے کا مزا چکھو (توبہ) مسلمانوں کو یہ بات بہت بھاری معلوم ہوئی۔ انھوں نے کہا : ہم میں سے کوئی مال نہیں چھوڑ سکتا جو اس کے بعد بچوں کے کام آئے۔ حضرت عمر رض نے کہا کہ میں اس کو معلوم کرتا ہوں ۔ وہ اور حضرت ثوبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ آیت آپ کے اصحاب پر بہت شاق گزری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے زکٰوۃ اسی لئے فرض کیا ہے کہ زکوٰۃ نکالنے کے بعد تمھارا بقیہ مال پاک ہو جائے (ابن کثیر) اس طرح کی مثالیں کثرت سے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لئے حدیث کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔
۶۔ قدیم زمانے میں حافظے بہت قوی ہوتے تھے۔ عربوں کا حافظہ اور بھی زیادہ مشہور تھا۔ چنانچہ آپ کی باتیں لوگوں کو تقریباً اصلی صورت میں یاد ہو جاتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک گفتگو جو مختلف صحابہ نے الگ الگ بیان کی ہو جب ہم اس کو جمع کر کے دیکھتے ہیں تو مختلف روایتوں کے درمیان بہت کم لفظی فرق دکھائی دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام مختصر اور جامع ہوتا تھا۔ مزید یہ کہ آپ اکثر اپنی بات کو ایک سے زیادہ بار دہراتے تھے۔ اس طرح آپ کے کلام کو یاد رکھنا بہت آسان ہو جاتا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات فرماتے تو اس کو تین بار دہراتے، یہاں تک کہ وہ بات اچھی طرح لوگوں کی سمجھ میں آجائے ( کان اذا تکلم بکلمة اعادها ثلاثا حتى تفهم عنه، بخاری)
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues