الرسائل، اگست ۱۹۸۰ء
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۱۸
اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں، ان سے ہم نے عہد لیا تھا۔ پس جو کچھ ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔ پھر ہم نے قیامت تک کے لئے ان کے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دیا۔ اور آخر اللہ ان کو آگاہ کر دے گا اس سے جو کچھ وہ کر رہے تھے ۱۴ آسمانی کتاب کی حامل قوموں پر جب بگاڑ آتا ہے تو وہ دین کے ممحکم حصہ کو چھوڑ کر اس کے غیر محکم حصہ پر دوڑ پڑتی ہیں۔ اس کا نتیجہ دنیا میں اختلاف کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور آخرت میں رسوائی کی صورت میں۔ مسیح علیہ السلام باپ کے بغیر ایک پاکباز خاتون کے بطن سے پیدا ہوئے۔ پیدائش کے بعد انھوں نے اپنی زبان سے اپنا جو تعارف کرایا وہ یہ تھا "میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں" اب حضرت مسیح کے بارہ میں رائے قائم کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آنجناب نے اپنے بارے میں جو واضح الفاظ فرمائے ہیں انھیں کی پابندی کی جائے اور آپ کو وہی سمجھا جائے جو ان الفاظ سے براہ راست طور پر معلوم ہوتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس معاملہ میں اپنے قیاس کو دخل دیا جائے اور کہا جائے کہ " انسان وہ ہے جو کسی باپ کا بیٹا ہو۔ مسیح کسی باپ کے بیٹے نہ تھے۔ اس لئے وہ خدا کے بیٹے تھے" پہلی رائے کی بنیاد خود مسیح کا حکم اور مستند قول ہے اس لئے اگر اس کو اختیار کیا جائے تو اس میں اختلاف پیدا نہ ہوگا۔ جب کہ دوسری رائے کی بنیاد محض انسانی قیاس پر ہے۔ اس لئے جب دوسری رائے کو اختیار کیا جائے گا تو رایوں کا اختلاف شروع ہو جائے گا، جیسا کہ مسیح کو ماننے والوں کے ساتھ بعد کے زمانہ میں ہوا۔
آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم میں جب بگاڑ آتا ہے تو اس کے اندر اسی قسم کی خرابیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ وہ محکم دین کو چھوڑ کر قیاسی دین پر چل پڑتی ہیں۔ یہیں سے اختلاف اور فرقہ بندیوں کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ فقہ اور کلام، روحانیت اور سیاست میں خدا ورسول نے جو کھلے ہوئے احکام دئے ہیں لوگ ان کے سادہ مفہوم پر قانع نہیں رہتے بلکہ بطور خود نئی نئی بحثیں نکالتے ہیں۔ کبھی زمانہ کے خیالات سے متاثر ہو کر کبھی اپنی دنیوی خواہشوں کو دینی جواز عطا کرنے کے لئے۔ کبھی بزعم خود خدا کے ناقص دین کو کامل بنانے کے لئے اپنی طرف سے ایسی باتیں دین میں داخل کردی جاتی ہیں جو حقیقۃ دین کا حصہ نہیں ہوتیں۔ اس طرح نئے نئے دینی ایڈیشن تیار ہوجاتے ہیں۔ کوئی روحانی ایڈیشن، کوئی سیاسی ایڈیشن، کوئی اور ایڈیشن۔ ہر ایک کے گرد اس کے موافق ذوق رکھنے والے لوگ جمع ہوتے رہتے ہیں۔ بالآخران کا ایک فرقہ بن جاتا ہے۔ ان کی بعد کی نسلیں اس کو اسلاف کا ور ثہ سمجھ کر اس کی حفاظت شروع کر دیتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجاتا ہے کہ وہ قیامت تک کبھی ختم نہ ہو۔ کیونکہ انسان ماضی کو ہمیشہ مقدس سمجھ لیتا ہے اور جو چیز مقدس بن جائے وہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ مذہب کے نام پر فرقہ بندی ایک طرف مقدس ہو کر ابدی بن جاتی ہے۔ دوسری طرف خدا کا حکم بن کر دوسروں کے خلاف نفرت اور جارحیت کا اجازت نامہ بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues