Al-Risala · August 1980 · page 19

الرسائل، اگست ۱۹۸۰ء

الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۱۹

اے اہل کتاب ، تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے۔ وہ کتاب الہی کی بہت سی ان باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن کو تم چھپاتے تھے۔ اور وہ در گزر کرتا ہے بہت سی چیزوں سے۔ بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور ایک ظاہر کرنے والی کتاب آچکی ہے۔ اس کے ذریعہ سے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی رضا کے طالب ہیں اور اپنی توفیق سے ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لا رہا ہے اور سیدھی راہ کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ بے شک ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ خدا ہی تو مسیح ابن مریم ہے۔ کہو پھر کون اختیار رکھتا ہے اللہ کے آگے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو۔ اور اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ وہ پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ ۱۷- ۱۵ اہل کتاب نے اپنے دین میں دو قسم کی غلطیاں کیں۔ ایک یہ کہ کچھ تعلیمات کو تاویل یا تحریف کے ذریعہ دین سے خارج کر دیا ۔ مثلاً انھوں نے اپنی کتاب میں ایسی تبدیلیاں کیں کہ اب ان کو اپنی نجات کے لئے کسی اور پیغمبر کو ماننے کی ضرورت نہ تھی۔ اپنے آبائی مذہب سے وابستگی ان کی نجات کے لئے بالکل کافی تھی ۔ دوسرے یہ کہ انھوں نے دین کے نام پر ایسی پابندیاں اپنے اوپر ڈال لیں جو خدا نے ان کے اوپر نہ ڈالی انھیں۔ مثال کے طور پر قربانی کی ادائیگی کے وہ جزئی مسائل جن کا حکم ان کے نبیوں نے ان کو نہیں دیا تھا بلکہ ان کے علماء نے اپنی فقہی موشگافیوں سے بطور خود ان کو گھڑ لیا۔

قرآن ان کے لئے ایک نعمت بن کر آیا۔ اس نے ان کے لئے دین خداوندی کی " تجدید کی ۔ قرآن نے ان کو اس اندھیرے سے نکالا کہ وہ ایسے راستہ پر چلتے رہیں جس کے متعلق وہ اس خوش فہمی میں ہوں کہ وہ جنت کی طرف جارہے ہیں ، حالاں کہ وہ ان کو خدا کے غضب کی طرف لے جارہا ہو۔ قرآن نے ایک طرف ان کی کھوئی ہوئی تعلیمات کو ان کی اصلی صورت میں پیش کیا۔ دوسری طرف قرآن نے یہ کیا کہ انھوں نے اپنے آپ کو جن غیر ضروری دینی پابندیوں میں مبتلا کر لیا تھا اس سے انھیں آزاد کر دیا۔ اب جو لوگ اپنی خواہشوں کی پیروی کریں وہ بدستور اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔ اور جن کو اللہ کی رضا کی تلاش ہو وہ حق کی سیدھی راہ کو پالیں گے وہ اللہ کی توفیق سے اپنے آپ کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا اپنی کامل صورت میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ مگر وہ ہمیشہ دلیل کی زبان میں ہوتا ہے۔ اور دلیل تھیں لوگوں کے ذہن کا جزو بنتی ہے جو اس کے لئے اپنے ذہن کو کھلا رکھیں ۔

خدا کو چھوڑ کر انسانوں نے جو خدا بنائے ہیں ان میں سے ہر ایک کا یہ حال ہے کہ وہ نہ کوئی چیز بطور خود پیدا کر سکتے ہیں اور نہ کسی چیز کو بطور خود مٹا سکتے ہیں۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں۔ جو ہستیاں پیدائش اور موت پر قادر نہ ہوں وہ خدا کس طرح ہو سکتی ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues

Printed page