تذکیر القرآن المائدہ ۵
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۱۰
تذکیر القرآن المائدہ ۵
اور یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ تم کہو کہ پھر وہ تمہارے گنا ہوں پر تم کو سزا کیوں دیتا ہے۔ نہیں بلکہ تم بھی اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں سے ایک آدمی ہو۔ وہ جس کو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اے اہل کتاب، تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، وہ تم کو صاف صاف بتا رہا ہے رسولوں کے ایک وقفہ کے بعد، تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوش خبری دینے والا اور ڈر سنانے والا نہیں آیا۔ پس اب تمہارے پاس خوش خبری دینے والا اور ڈرا نے والا آ گیا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ 19 - ۱۸ جو قوم کتاب اور پیغمبر کی حامل بنائی جائے اور وہ اس کو ماننے کا ثبوت دیدے تو اس پر خدا کی بہت سی نعمتیں نازل ہوتی ہیں۔ مخالفین کے مقابلہ میں خصوصی نصرت، زمین پر اقتدار، مغفرت اور جنت کا وعدہ، وغیرہ ۔ قوم کے ابتدائی لوگوں کے لئے یہ ان کے عمل کا بدلہ ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے آپ کو خدا کے حوالے کیا اس لئے خدا نے ان پر اپنی نعمتیں برسائیں۔ مگر بعد کی نسلوں میں صورت حال بدل جاتی ہے اب ان کے لئے سارا معاملہ قومی معاملہ بن جاتا ہے۔ اولین لوگوں کو جو چیز عمل کے سبب سے ملی تھی، بعد کے لوگ قومی اور نسلی تعلق کی بنا پر اپنے کو اس کا مستحق سمجھ لیتے ہیں۔ وہ یقین کر لیتے ہیں کہ وہ خدا کے خاص لوگ ہیں اور وہ خواہ کچھ بھی کریں خدا کی نعمتیں ان کو مل کر رہیں گی۔ حامل کتاب قوموں کو اس غلط فہمی سے نکالنے کی خاطر خدا نے ان کے لئے یہ خصوصی قاعدہ مقرر کیا ہے کہ ان کی جزا کا آغاز اسی دنیا سے شروع ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ اسی موجودہ دنیا میں دیکھ سکتے ہیں کہ آنے والی دنیا میں ان کا خدا ان کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ اگر وہ دنیا میں اپنے دشمنوں پر غالب آ رہے ہوں تو وہ خدا کے مقبول گروہ ہیں اور اگر ان کے دشمن ان پر غلبہ پالیں تو وہ خدا کے نا مقبول گروہ ہیں۔ کوئی حامل کتاب گروہ کثرت تعداد کے باوجود اگر دنیا میں مغلوب اور ذلیل ہو رہا ہو تو اس کو ہرگز یہ امید نہ رکھنا چاہئے کہ آخرت میں وہ سربلند اور باعزت رہے گا۔
کسی قوم کو بحیثیت قوم کے خدا کا محبوب سمجھنا سراسر باطل خیال ہے۔ خدا کے یہاں فرد فرد کا حساب ہوتا ہے نہ کہ قوم قوم کا۔ ہر آدمی جو کچھ کرے گا اسی کے مطابق وہ خدا کے یہاں بدلہ پائے گا۔ ہر آدمی اللہ کی نظر میں بس ایک انسان ہے، خواہ وہ اس قوم سے تعلق رکھتا ہو یا اُس قوم سے۔ ہر آدمی کے مستقبل کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جائے گا کہ امتحان کی دنیا میں اس نے کس قسم کی کارکر دگی کا ثبوت دیا ہے۔ جنت کسی کا قومی وطن نہیں اور جہنم کسی کا قومی جیل خانہ نہیں۔ اللہ کے فیصلہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے ایسے افراد اٹھاتا ہے جو لوگوں کو زندگی کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس کو جہنم سے ڈراتے ہیں اور جنت کی خوش خبری دیتے ہیں۔ خدا کے اسی بشیر و نذیر کا ساتھ دے کر آدمی خدا کو پاتا ہے نہ کہ کسی اور طریقے سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues