تذکیر القرآن المائدہ ۵
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۲۱
تذکیر القرآن المائدہ ۵ اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے ا اے میری قوم، اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد کرو کہ اس نے تمھارے اندر نبی پیدا کئے۔ اور تم کو بادشاہ بنایا اور تم کو وہ دیا جو دنیا پس کسی کو نہیں دیا تھا۔ اے میری قوم، اس پاک زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمھارے لئے لکھ دی ہے۔ اور اپنی پیٹھ کی طرف نہ لوٹو ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے ۔ انھوں نے کہا کہ وہاں ایک زبردست قوم ہے۔ ہم ہرگز وہاں نہ جائیں گے جب تک کہ وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم داخل ہوں گے۔ دو آدمی جو اللہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے اور ان دونوں پر اللہ نے انعام کیا تھا، انھوں نے کہا کہ تم ان پر حملہ کر کے شہر کے پھاٹک میں داخل ہو جاؤ۔ جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم ہی غالب ہو گے اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو۔ انھوں نے کہا کہ اے موسیٰ ہم کبھی وہاں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ وہ لوگ وہاں ہیں۔ میں تم اور تمھارا خداوند دونوں جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ - ۲۰ اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے کسی گروہ کو چن لیتا ہے۔ اس گروہ کے اندر وہ اپنے پیغمبر اور اپنی کتاب بھیجتا ہے اور اس کو مامور کرتا ہے کہ وہ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائے۔ جس طرح وحی ایک خاص شخص پر اترتی ہے اسی طرح وحی کا حامل بھی ایک خاص گروہ کو بنایا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ خاص حیثیت بنی اسرائیل کو حاصل تھی اور نبی آخر الزماں کے بعد امت محمدی اس خصوصی منصب پر مامور ہے ۔ اللہ کو جس طرح یہ مطلوب ہے کہ کوئی قوم اس کے دین کی نمائندگی کرے ۔ اسی طرح اس کو یہ بھی مطلوب ہے کہ جو قوم اس کے دین کی نمائندہ ہو وہ دنیا میں باعزت اور سربلند ہو تاکہ لوگوں پر اس بات کا مظاہرہ ہو سکے کہ قیامت کے بعد جو نیا اور ابدی عالم بنے گا اس میں ہر قسم کی سرفرازیاں صرف اہل حق کو حاصل ہوں گی۔ باقی لوگ مغلوب کر کے خدا کی رحمتوں سے دور پھینک دئے جائیں گے ۔ تاہم اس گروہ کو یہ دنیوی انعام یک طرفہ طور پر نہیں دیا جاتا اس کے لئے اس کو استحقاق کے امتحان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اس کو عملی طور پر یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر اعتماد کرنے والا اور صبر کی حد تک اس کی مرضی پر قائم رہنے والا ہے ۔
بنی اسرائیل جب تک اس معیار پر قائم رہے ان کو خدا نے ان کی حریف قوموں پر غالب کیا۔ حتیٰ کہ ایک زمانہ تک وہ اپنے وقت کی مہذب دنیا میں سب سے زیادہ سربلند حیثیت رکھتے تھے ۔ مگر حضرت موسیٰ تشریف لائے تو بنی اسرائیل پر زوال آچکا تھا۔ امتحان کے وقت ان کی اکثریت اعتماد علی اللہ اور صبر کا ثبوت دینے کے لئے تیار نہ ہوئی ۔ حتیٰ کہ ان کا ایک طبقہ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے گستاخی کرنے لگا۔ ان کے دل میں اللہ سے بھی زیادہ دنیا کی طاقت ور قوموں کا ڈر سمایا ہوا تھا ۔ جب خدا کا کوئی نمائندہ گروہ خدا کے کام کے لئے قربانی نہ دے تو گویا کہ وہ چاہتا ہے کہ خدا خود زمین پر اترے اور اپنے دین کا کام خود انجام دے ، خواہ وہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی طرح اس بات کو زبان سے کہہ دے یا دوسرے لوگوں کی طرح زبان سے نہ کہے بلکہ صرف اپنے عمل سے اس کو ظاہر کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues