تذکیر القرآن المائدہ ۵
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۲۲
تذکیر القرآن المائدہ ۵ موسیٰ نے کہا کہ اے میرے رب، اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر میرا اختیار نہیں۔ پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان جدائی کردے۔ اللہ نے کہا: وہ ملک ان پر چالیس سال کے لئے حرام کردیا گیا۔ یہ لوگ زمین میں بھٹکتے پھریں گے۔ پس تم اس نافرمان قوم پر افسوس نہ کرو ۲۴ - ۲۵ بنی اسرائیل جب حضرت موسیٰ کی قیادت میں مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں پہنچے تو اس زمانہ میں شام و فلسطین کے علاقہ میں ایک ظالم قوم (عمالقہ) کی حکومت تھی۔ اللہ نے بنی اسرائیل سے کہا کہ یہ ظالم لوگ اپنی عمر پوری کر چکے ہیں۔ تم ان کے ملک میں داخل ہو جاؤ، تم کو خدا کی مدد حاصل ہوگی اور تم معمولی مقابلہ کے بعد ان کے اوپر قبضہ پالؤ گے ۔ مگر بنی اسرائیل پر اس قوم کی ایسی ہیبت طاری تھی کہ وہ ان کے ملک میں داخل ہونے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اللہ سے زیادہ انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کی نظر میں ان کی کوئی قیمت نہ رہی۔ اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ کر دیا کہ وہ چالیس سال (۴۰۔ ۲۰ م۔ تک فاران اور شرقی اردن کے درمیان صحرا میں بھٹکتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ ۲۰ سال سے لے کر اوپر کی عمر تک کے سارے لوگ ختم ہو جائیں گے۔ اس دوران ان کی نئی نسل نئے حالات میں پرورش پا کر اٹھے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ۴۰ سال کی صحرائی زندگی میں ان کے تمام بڑی عمر والے مرکز ختم ہو گئے۔ اس کے بعد ان کی نئی نسل نے یوشع بن نون کی قیادت میں شام و فلسطین کو فتح کیا۔ یہ یوشع بن نون ان دو صالح اسرائیلیوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ تم اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے عمالقہ کے ملک میں داخل ہو جاؤ۔
بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ اگر ہم اس ملک پر حملہ کریں تو ہم کو شکست ہوگی اور اس کے بعد ہمارے بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے ، مگر یہی بچے بڑے ہو کر عمالقہ کے ملک میں داخل ہوئے اور اس پر قبضہ کیا ۔ بچوں میں یہ طاقت اس لئے پیدا ہوئی کہ انھوں نے لمبی مدت تک صحرائی زندگی کی مشقتوں کو برداشت کیا تھا۔ بچوں کے باپ جن پر خطر حالات کو اپنے بچوں کے حق میں موت سمجھتے تھے انھیں پر خطر حالات کے اندر داخل ہونے میں ان کے بچوں کی زندگی کا راز چھپا ہوا تھا۔
موافق حالات میں جینا بظاہر بہت اچھا معلوم ہوتا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تمام بہترین اوصاف اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کہ اس کو حالات کا مقابلہ کر کے زندہ رہنا پڑے۔ مصر میں بنی اسرائیل صدیوں تک عافیت کی زندگی گزارتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایک مردہ قوم بن گئے۔ مگر خروج کے بعد ان کو جو صحرائی زندگی حاصل ہوئی اس میں زندگی ان کے لئے سراپا چیلنج تھی۔ ان حالات میں جو لوگ بچپن سے جوانی کی عمر کو پہنچے وہ قدرتی طور پر بالکل دوسری قسم کے لوگ تھے۔ صحرائی حالات نے ان کے اندر سادگی، ہمت، جفا کشی اور حقیقت پسندی پیدا کر دی تھی۔ اور یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی قوم کو زندہ قوم بناتے ہیں ۔ کوئی قوم اگر حالات کے نتیجہ میں مردہ قوم بن جائے تو اس کو دوبارہ زندہ قوم بنانے کے لئے غیر معمولی حالات میں ڈال دیا جاتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues