Al-Risala · August 1980 · page 30

تذکیر القرآن المائدہ ۵

الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰

اور ہم نے تمھاری طرف کتاب تمھاری حق کے ساتھ، تصدیق کرنے والی پچھلی کتاب کی اور اس کے مضامین پر نگہبان ۔ پس تم ان کے درمیان فیصلہ کرو اس کے مطابق جو اللہ نے اتارا ۔ اور جو حق تمھارے پاس آیا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو ۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک طریقہ ٹھہرایا۔ اور اگر خدا چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ مگر اللہ نے چاہا کہ وہ اپنے دئے ہوئے حکموں میں تمھاری آزمائش کرے ۔ پس تم بھلائیوں کی طرف دوڑو۔ آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ پھر وہ تم کو آگاہ کر دے گا اس چیز سے جس میں تم اختلاف کر رہے تھے ۴۸ یہاں ”کتاب“ سے مراد دین کی اصلی اور اساسی تعلیمات ہیں۔ اللہ کی یہ کتاب ایک ہی کتاب ہے اور نہی ایک کتاب، زبان اور ترتیب کے فرق کے ساتھ ، تمام نبیوں کی طرف اتاری گئی ہے۔ تاہم دین کی حقیقت جس ظاہری ڈھانچہ میں متشکل ہوتی ہے اس میں مختلف انبیاء کے درمیان فرق پایا جاتا ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ نہیں کہ دین کے اتارنے میں کوئی ارتقائی ترتیب ہے۔ یعنی پہلے کم ترقی یافتہ اور غیر کامل دین اتارا گیا اور اس کے بعد زیادہ ترقی یافتہ اور زیادہ کامل دین اترا۔ اس فرق کی وجہ خدا کی حکمت ابتلا ہے نہ کہ حکمت ارتقار۔ قرآن کے مطابق ایسا صرف اس لئے ہوا کہ لوگوں کو آزمایا جائے ۔ زمانہ گزرنے کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ دین کی اندرونی حقیقت گم ہو جاتی ہے اور ظواہر ورسوم مقدس ہو کر اصل بن جاتے ہیں، لوگ عبادت اس کو سمجھ لیتے ہیں کہ ایک خاص ڈھانچہ کو ظاہری شرائط کے ساتھ دہرالیا جائے۔ اس لئے ظاہری ڈھانچہ میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں تاکہ ڈھانچہ کی مقصودیت کا ذہن ختم ہو اور خدا کے سوا کوئی اور چیز توجہ کا مرکز نہ بننے پائے۔ اس کی ایک مثال قبلہ کی تبدیلی ہے۔ بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ وہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے عبادت کریں۔ یہ حکم صرف رخ بندی کے لئے تھا۔ مگر دھیرے دھیرے ان کا ذہن یہ بن گیا کہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنے ہی کا نام عبادت ہے۔ اس وقت سابقہ حکم کو بدل کر کعبہ کو قبلہ بنا دیا گیا۔ اب کچھ لوگ سابقہ روایت سے لپٹے رہے اور کچھ لوگوں نے خدا کی ہدایت کو پالیا۔ اس طرح تبدیلی قبلہ سے یہ کھل گیا کہ کون درد دیوار کو پوجنے والا تھا اور کون خدا کو پوجنے والا (بقرہ ۱۴۳)۔ اب اس قسم کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ کیونکہ ڈھانچہ کو نبی بدلتا ہے اور نبی اب آنے والا نہیں۔ تاہم جہاں تک اصل مقصود کا تعلق ہے وہ بدستور باقی ہے۔ اب بھی خدا کے یہاں اس کا سچا پرستار وہی شمار ہوگا جو ظاہری ڈھانچہ کی پابندی کے باوجود ظاہری ڈھانچہ کو مقصودیت کا درجہ نہ دے، جو ظواہر سے ذہن کو آزاد کر کے خدا کی عبادت کرے۔ پہلے یہ مقصد ظاہری ڈھانچہ کو توڑ کر حاصل ہوتا تھا اب اس کو ذہنی شکست و ریخت کے ذریعہ حاصل کرنا ہو گا۔

ظواہر کے نام پر دین میں جو جھگڑے ہیں وہ صرف اس لئے ہیں کہ لوگوں کی غفلت نے ان کو اصل حقیقت سے بے خبر کر دیا ہے۔ اگر حقیقت کو وہ اس طرح پالیں جس طرح وہ آخرت میں دکھائی دے گی تو تمام جھگڑے ابھی ختم ہو جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues

Printed page