تذکیر القرآن المائدہ ۵
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۳۱
اور ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے اتارا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو اور ان لوگوں سے بچو کہ کہیں وہ تم کو پھسلادیں تمہارے اوپر اللہ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے۔ پس اگر وہ پھر جائیں تو جان لو کہ اللہ ان کے بعض گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے۔ اور یقیناً لوگوں میں سے زیادہ آدمی نافرمان ہیں۔ کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ اور اللہ سے بڑھ کر کس کا فیصلہ ہو سکتا ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین کرنا چاہیں ۵۰-۴۹ قرآن اور دوسرے آسمانی صحیفے الگ الگ کتابیں نہیں ہیں۔ یہ سب ایک ہی کتاب الہی کے مختلف ایڈیشن ہیں جس کو یہاں ”الکتاب“ کہا گیا ہے۔ خدا کی طرف سے جتنی کتابیں آئیں، خواہ وہ جس دور میں اور جس زبان میں آئی ہوں، سب کا مشترک مضمون ایک ہی تھا۔ تاہم پچھلی کتابوں کے حاملین بعد کے زمانہ میں ان کو ان کی اصلی صورت میں محفوظ نہ رکھ سکے ۔ اس لئے خدا نے ایک کتاب مھیمن (قرآن) اتارا یہ خدا کی طرف سے اس کی کتاب کا مستند ایڈیشن ہے اور اس بنا پر وہ ایک کسوٹی ہے جس پر جانچ کر معلوم کیا جائے کہ بقیہ کتابوں کا کون سا حصہ اصلی حالت میں ہے اور کون سا دہ ہے جو بدلا جا چکا ہے ۔
یہود خدا کے سچے دین کے ساتھ اپنی باتوں کو ملا کر ایک خود ساختہ دین بنائے ہوئے تھے۔ اس خود ساختہ دین سے ان کی عقیدتیں بھی وابستہ تھیں اور ان کے مفادات بھی ۔ اس لئے وہ کسی طرح تیار نہ تھے کہ اس کو چھوڑ کر پیغمبر کے لائے ہوئے بے آمیز دین کو مان لیں۔ انھوں نے حق کے آگے جھکنے کے بجائے اپنے لئے یہ طریقہ پسند کیا کہ وہ حق کے علم بردار کو اتنا زیادہ پریشان کریں کہ وہ خود ان کے آگے جھک جائے ، وہ خدا کے سچے دین کو چھوڑ کر ان کے اپنے بنائے ہوئے دین کو اختیار کر لے۔ خدا اگر چاہتا تو پہلے ہی مرحلہ میں ان ظالموں کا ہاتھ روک دیتا اور وہ حق کے داعی کو ستانے میں کامیاب نہ ہوتے۔ مگر اللہ نے انھیں چھوٹ دی کہ وہ اپنے ناپاک منصوبوں کو بروئے کار لاسکیں۔ ایسا اس لئے ہوا تاکہ یہ بات پوری طرح کھل جائے کہ دین داری کے یہ دعوے دار سب سے زیادہ بے دین لوگ ہیں ۔ وہ خدا کے پرستار نہیں ہیں بلکہ خود اپنی ذات کے پرستار ہیں۔ اللہ کی یہ سنت اگر چہ حق کے داعیوں کے لئے بڑا سخت امتحان ہے۔ مگر یہی وہ عمل ہے جس کے ذریعہ یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کون جنت کا مستحق ہے اور کون جہنم کا ۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنا چاہتا ہے ، اللہ کے حکم کا پابند بن کر رہنا اس کو گوارا نہیں ہوتا ۔ حتیٰ کہ دین خداوندی کی خود ساختہ تشریح کر کے وہ اس کو بھی اپنی خواہشوں کے سانچہ میں ڈھال لیتا ہے۔ ایسی حالت میں بے آمیز دین کو وہی لوگ قبول کریں گے جو چیزوں کو خواہش کی سطح پر نہ دیکھتے ہوں بلکہ اس سے اوپر اٹھ کر اپنی رائے قائم کرتے ہوں ۔ اللہ کی بات بلاشبہ صحیح ترین بات ہے ۔ مگر موجودہ آزمائشی دنیا میں ہر سچائی پر ایک شبہ کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ اس پردہ کو پھاڑ کر اس پر یقین کرے ، وہ غیب کو شہود میں دیکھ لے۔ جو شخص ظاہری شبہات میں اٹک جائے وہ ناکام ہو گیا اور جو شخص ظاہری شبہات کے غبار کو پار کر کے سچائی کو پالے وہ کامیاب رہا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues