Al-Risala · January 1980 · page 49

قربانی کیا ہے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۴۹

ہماری زندگی دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس کا چھوٹا، بہت چھوٹا حصہ موجودہ دنیا میں ہے، اور اس کا بڑا، زیادہ بڑا، اور مستقل حصہ آخرت میں، جو مرنے کے بعد ہمارے سامنے آئے گا۔ اگلی دنیا کی کامیابی کا سارا دارومدار بھی، موجودہ دنیا کی طرح، قربانی پر ہے۔ اگلی دنیا کو یا بہترین چنے ہوئے انسانوں کی کالونی ہے، آج جو لوگ اپنے فکر و عمل میں بہترین انسان ثابت ہوں گے وہ اگلی دنیا میں جنت کی کالونیوں میں بسائے جائیں گے اور جو لوگ آج اعلیٰ انسانیت کا ثبوت نہ دے سکیں وہ جہنم کے پر عذاب ماحول میں دھکیل دئے جائیں گے۔

اچھا انسان بننا کیا ہے، اچھا انسان بننا یہ ہے کہ آدمی خدائی سطح پر جینے لگے۔ وہ اپنے اندر خدائی اوصاف پیدا کرے۔ اس مقصد کے لئے آدمی کو شیطان سے لڑنا پڑتا ہے۔ اپنی پوری زندگی کو شیطان کے اثرات سے پاک کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک مسلسل قربانیوں کا راستہ ہے۔ وہی شخص خدا کی جنتی دنیا میں اپنے لئے جگہ پاتا ہے جو اس قربانی کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کر سکے۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ آدمی تمام بے حقیقت خیالات کو اپنے ذہن سے نکالے اور صرف صحیح اور برحق خیالات کو اپنے ذہن میں جگہ دے خواہ یہ فکری آپریشن اس کے لئے اپنے محبوب تصورات کو ذبح کرنے کے ہم معنی کیوں نہ ہو۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ آدمی اپنے کردار کو حق کی بنیاد پر قائم کرے خواہ اس کی خاطر دنیوی فائدوں اور مصلحتوں کو کھیلنا پڑے۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ آدمی سچائی کے آگے جھک جائے خواہ اس کی قیمت میں اس کو بڑائی کی گدی سے محروم ہو جانا پڑے۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ آدمی حقیقت پسندی اور اصول پرستی کو اپنی زندگی کا دستور بنائے خواہ اس کی وجہ سے وہ دنیا میں بے جگہ ہو جائے۔

ہر زمانہ میں ایسا ہوتا ہے کہ دنیا میں کچھ طریقے رائج ہوجاتے ہیں۔ تعلقات کی کچھ بنیادیں قائم ہوجاتی ہیں۔ کچھ محبوب خیالات آدمی کے ذہن میں جگہ پالیتے ہیں۔ انھیں چیزوں کے بل پر آدمی جی رہا ہوتا ہے۔ وہ خیال اور عمل کے ایک حلقہ سے اپنے کو جوڑ کر ناز کر رہا ہوتا ہے کہ میں نے بہترین حلقہ کے ساتھ اپنی قسمت وابستہ کرلی ہے۔ اب جب اس کے سامنے حق کی دعوت آتی ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ دعوت اس کی مصلحتوں پر ضرب لگا رہی ہے۔ اس کے تعلقات کو توڑنا چاہتی ہے۔ اس کے ان خیالات کو بے قیمت ثابت کر رہی ہے جن کے سہارے وہ اپنے لئے ایک حسین مستقبل کا خواب دیکھ رہا تھا۔ ان وجوہ سے حق کی دعوت کو قبول کرنا اس کے لئے ایک عظیم قربانی کا عمل بن جاتا ہے۔ یہ اپنی پوری زندگی کو حق کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھانے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ مگر یہی وہ قربانی ہے جو آدمی کو خدا کی نظر میں محبوب بناتی ہے۔ یہی وہ قربانی ہے جس سے آدمی کے اوپر ابدی جنتوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ اپنے وجود کی قربانی ہی جنت کی واحد قیمت ہے۔ اس قربانی کے بغیر کسی کو خدا کی جنت نہیں ملتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page