Al-Risala · August 1980 · page 32

تذکیر القرآن المائدہ ۵

الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۳۲

اے ایمان والو ، یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ اور تم میں سے جو شخص ان کو اپنا دوست بنائے گا تو وہ ان ہی میں سے ہوگا۔ اللہ ظالم لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا ۔ تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے وہ ان ہی کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم کو یہ اندیشہ ہے کہ ہم کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔ تو ممکن ہے کہ اللہ فتح دیدے یا اپنی طرف سے کوئی خاص بات ظاہر کرے۔ تو یہ لوگ اس چیز جس کو یہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے۔ اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جو زور شور سے اللہ کی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ ان کے سارے اعمال ضائع ہو گئے اور وہ گھاٹے میں رہے ۵۳ - ۵۱ عرب میں مسلمان ابھی ایک نئی طاقت کی حیثیت رکھتے تھے۔ مزید یہ کہ ان کے مخالفین ان کو اکھاڑنے کی کوشش میں رات دن لگے ہوئے تھے۔ دوسری طرف ملک کے یہودی اور عیسائی قبائل کا یہ حال تھا کہ ملک کے بیشتر اقتصادی وسائل پر ان کا قبضہ تھا۔ صدیوں کی تاریخ نے ان کی عظمت لوگوں کے دلوں پر بٹھارکھی تھی۔ لوگوں کو یقین نہیں تھا کہ ایسی طاقت کو ملک سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی جماعت میں جو کمزور لوگ تھے وہ چاہتے تھے کہ ہم کی جدوجہد میں اس طرح شریک نہ ہوں کہ یہود و نصاریٰ کو اپنا دشمن بنالیں ۔ تاکہ یہ کش مکش اگر مسلمانوں کی شکست پر ختم ہو تو یہود و نصاریٰ کی طرف سے انھیں کسی انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرناپڑے۔ یہ لوگ مستقبل کے موہوم خطرہ سے بچنے کے لئے اپنے کو وقت کے یقینی خطرہ میں مبتلا کر رہے تھے ، اور وہ ان کی دہری وفاداری تھی۔ جو شخص بے ضرر معاملات میں حق پرست بنے اور ضرر کا اندیشہ ہو تو باطل پرستوں کا ساتھ دینے لگے ، اس کا انجام خدا کے یہاں انھیں لوگوں میں ہوگا جن کا اس نے خطرہ کے مواقع پر ساتھ دیا۔

کسی کی زندگی میں وہ وقت بڑا نازک ہوتا ہے جب کہ اسلام پر قائم رہنے کے لئے اس کو کسی قسم کی قربانی دینی پڑے۔ ایسے مواقع پر آدمی کے اسلام کی تصدیق یا تردید کرنے کے لئے آتے ہیں۔ خدا چاہتا ہے کہ آدمی جس اسلام کی محبت بے خطر حالات میں دے رہا تھا اسی اسلام کا ثبوت وہ اس وقت بھی دے جب کہ جذبات کو دبا کر یا جان و مال خطرہ مول لے کر آدمی اپنے اسلام کا ثبوت پیش کرتا ہے ۔ اس امتحان میں پورا اترنے کے بعد ہی آدمی اس قابل بنتا ہے کہ اس کا خدا اس کو اپنے وفادار بندوں میں لکھ لے۔ ان مواقع پر اسلامیت کا ثبوت دینا ہی کسی آدمی کے پچھلے اعمال کو باقیمت بناتا ہے۔ اور اگر وہ ایسے مواقع پر اسلامیت کا ثبوت نہ دے سکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے پچھلے تمام اعمال کو بے قیمت کر لیا۔

دنیا کا ہر امتحان ارادہ کا امتحان ہے۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خطرات کو نظر انداز کر کے ارادہ کا ثبوت دے ، وہ اللہ کی طرف اپنا پہلا قدم اٹھادے۔ اس کے بعد فوراً خدا کی مدد اس کا سہارا بن جاتی ہے۔ مگر جو شخص ارادہ کا ثبوت نہ دے ، جو خدا کی طرف اپنا پہلا قدم نہ اٹھائے وہ اللہ کی نظر میں ظالم ہے۔ ایسے لوگوں خدا ایک طرفہ طور پر اپنی مدد کا سہارا نہیں بھیجتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues

Printed page