Al-Risala · August 1980 · page 41

امتِ مسلمہ کی طاقت: اتحاد

الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۴۱

دو مسلمان مل کر ایک کام شروع کرتے ہیں۔ اس کے بعد کسی وجہ سے دونوں میں اختلاف ہو جاتا ہے۔ اب اگر دونوں خاموشی سے اپسے کام کو الگ کر لیں اور اپنی کوششوں کو جاری رکھنے کے لئے الگ الگ میدان تلاش کر لیں تو اس سے معاشرہ میں کوئی خرابی یا کمزوری پیدا وہیں ہوتی۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ ایک دوسرے کی کاٹ میں لگ جائے تو دونوں کے تعلقات میں فساد پیدا ہو جاتا ہے جو بالآخر معاشرہ کی کمزوری کا باعث ہوتا ہے۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے یہاں نکاح کا پیغام دیتا ہے۔ دوسرا مسلمان کسی وجہ سے پیغام قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ اب اگر پہلا مسلمان اس سے کوئی برا اثر نہ لے اور اپنے لئے کوئی دوسرا رشتہ ڈھونڈ لے تو معاشرہ کسی خرابی کا شکار نہیں ہوتا، اس کے برعکس اگر پہلے مسلمان کے اندر دوسرے مسلمان کے خلاف دشمنی کی آگ بھڑک اٹھے۔ دو اس کے خلاف جھوٹے مقدمے قائم کرے اور اس کی بربادی کے منصوبے بنائے تو وہ مسلمان خاندان نامعلوم مدت کے لئے ایک دوسرے سے کٹ جائیں گے اور نتیجہ پورے معاشرہ میں بگاڑ پھیل جائے گا۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی عمارت میں کرایہ دار ہے۔ مالک مکان کو کرایہ دار سے کوئی شکایت ہو گئی ۔ اب اگر مالک مکان وسعت ظرف کا طریقہ اختیار کرے تو دونوں کے تعلقات میں کوئی بگاڑ نہیں آئے گا اور ملت کا اتحاد قائم رہے گا۔ اس کے برعکس اگر مالک مکان یہ کرے کہ کرایہ دار کو اکھاڑنے کے لئے اس کو بدنام کرے۔ اس کے خلاف تخریبی منصوبے بنائے ۔ اس کو ذلیل کرنے کی کوشش کرے تو یہ ملت کے قلعہ میں نقب لگانے کے ہم معنی ہو گا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کچھ لوگ کرایہ دار کا ساتھ دیں گے اور کچھ لوگ مالک مکان کا ۔ ملت دو جتھوں میں بٹ جائے گی ۔ ملت کی جو طاقت ملت کی ترقی و استحکام میں لگتی وہ ملت کی بربادی میں صرف ہونے لگے گی۔

یہ چند مثالیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ملت کے افراد ایک رویہ اختیار کر کے اپنے کو طاقت ور بناتے ہیں اور دوسرا رویہ اختیار کر کے اپنے کو اور بالآخر پوری ملت کو کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔ اس قسم کی تمام کمزوریوں کی واحد وجہ اللہ کی پکڑ سے بے خوف ہونا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرنے تو وہ ایسے الفاظ اپنی زبان سے نہیں نکالے گا جو اللہ کے یہاں بے قیمت ہو جانے والے ہیں۔ وہ ایسے عمل نہیں کرے گا جو اللہ کی میزان میں جرم ثابت ہونے والے ہیں۔ ہر آدمی اپنی غلطی کو تسلیم کرنے گا۔ ہر آدمی دوسرے کو تکلیف دینے سے بچے گا اور جس معاشرہ میں یہ فضا ہو وہاں لازماً اتحاد فروغ پاتا ہے اور اتحاد ہی کا دوسرا نام طاقت ہے۔ آدمی دوسرے کی بربادی کے منصوبے بناتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس نے پہلے کہ دوسرے کے خلاف اس کے ارادے پورے ہوں خود اس کی موت کا وقت آجائے گا۔ وہ دنیا سے اٹھا کر آخرت میں پہنچا دیا جائے گانہ ہاں اس کو جواب دینا ہوگا کہ خدا نے اس کو جو کچھ دیا تھا وہ خدا کی امانت تھا۔ اس کو کیا حق تھا کہ ان کو خدا کے بندوں کی بربادی کے لئے استعمال کرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر صرف موت کو یاد رکھے تو نہ اس کی اصلاح کے لئے کافی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues

Printed page