قریب کے صدقہ میں زیادہ ثواب
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۴۰
عرضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو کام میں بھیجا اور ہم کو عطیات دئے تو ہم کو اس کے لینے میں کراہت ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم لوگوں کو لینا چاہئے :
فاقبلہا ایہا الرجل فاستعن بھا علی دینك ودنياك پس اے آدمی اس کو قبول کر اور اس کے ذریعہ سے اپنے دین اور اپنی دنیا میں مدد حاصل کر۔
اس کے بعد ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کو قبول کر لیا۔
قریب کے صدقہ میں زیادہ ثواب
حضرت ابو ہریرہ رمن کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے محمد کی امت اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے، اس آدمی سے اللہ کوئی صدقہ قبول نہیں کرے گا جس کے ضرورت مند رشتہ دار ہوں اور وہ ان کو دینے کے بجائے دوسروں کو دے (یا امة محمد والذي بعثني بالحق لا يقبل الله صدقة من رجل دله قرابة محتاجون الى صلته ديصر بها الى غيرهم ، طبرانی) ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ، قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ محنت کی کمائی مومن کے لئے زیادہ بہتر ہے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سوال کیا۔ آپ نے پوچھا : تمہارے گھر میں کچھ ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے پاس ایک معمولی چادر ہے جس کو اور ھتا ہوں ۔ ایک پیالہ ہے جس میں پانی پیتا ہوں۔ آپ نے اس سے پیالہ منگوایا۔ ۔ آپ نے حاضرین سے فرمایا کہ اس پیالہ کی قیمت لگاؤ۔ ایک شخص نے ایک درہم قیمت لگائی۔ دوسرے نے قیمت میں اضافہ کرتے۔ دو درہم بتایا اور لے لیا۔ آپ نے یہ دونوں درہم انصاری کو دئے اور کہا : ایک درہم کا کھانا خرید کر اپنے گھر دے دو اور ایک درہم سے کلہاڑی خرید کر میرے پاس لاؤ، وہ خرید کر لائے۔ آپ نے کلہاڑی میں اپنے ہاتھ سے دستہ ڈالا اور فرمایا:
اذھب فاحتطب ولا ارينك خمسة عشر جاؤ، جنگل سے لکڑی کاٹ کر لاؤ اور بیچو۔ پندرہ دن تک میرے پاس نہ آنا وہ انصاری اپنے کام پر لگ گیا، پھر جنگل سے لکڑی مار کر کاٹ لایا اور ان کو فروخت کر کے دو ہفتہ کے اندر نا
‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues