Al-Risala · August 1980 · page 42

نصیحت عمومی انداز میں

الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۴۲

آپ کس پیغام کے ساتھ بھیجے گئے ؟

ابو ثیح عمروبن عنہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسلام سے پہلے بھی میرا یہ احساس تھا کہ لوگ گمراہی پر ہیں۔ بتوں کی پرستش جس میں وہ لگے ہوئے ہیں، اس کی کچھ بھی حقیقت نہیں ہے۔ پھر میں نے سنا کہ مکہ میں ایک شخص ظاہر ہوا ہے جو آسمانی باتیں بتاتا ہے، میں اپنی بیزاری پر بیٹھ کر وہاں پہنچا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپ کر تبلیغ کرتے ہیں اور آپ کی قوم آپ پر بہت جری ہو گئی ہے۔ مکہ میں جب میں آپ سے ملاقات میں کامیاب ہو گیا تو میں نے پوچھا: ما انت ؟ آپ کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا: انا نبٌّی (میں نبی ہوں) میں نے پوچھا نبی کس کو کہتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا مجھ کو اللہ نے بھیجا ہے: میں نے پوچھا کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا :

ارسلنی بصلۃ الارحام و کسر الاوثان مجھے کو اس پیغام کے ساتھ بھیجا ہے کہ رشتوں کو جوڑا جائے وان توحید اللہ لا یشرک بہ شی (مسلم) اور بتوں کو توڑا جائے۔ اور اللہ کو ایک سمجھا جائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے ۔

نصیحت عمومی انداز میں

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی کے بارے میں کوئی ایسی بات معلوم ہوتی جو آپ کو ناگوار ہو تو آپ یہ نہ کہتے کہ " فلاں شخص کو کیا ہو گیا ہے کہ اس نے ایسا کہا “ بلکہ یوں فرماتے: ما بال اقوام يصنعون او يتقون کذا لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ ایسا کرتے ہیں یا ایسا کہتے ہیں ۔ اس طرح عمومی انداز میں روکتے۔ مگر کسی کا نام نہ لیتے ۔ (کتاب الشفاء از قاضی عیاض، صفحہ ۸۹)

وہ لوگوں کے اسلام کے سب سے زیادہ حریص تھے

حضرت عبداللہ بن عباس قرآن کے بہت بڑے عالم تھے ۔ قرآنی مضامین کی گہرائیوں تک پہنچنے کی ان کے اندر غیر معمولی صلاحیت تھی۔ ایک بار انھوں نے سورہ بقرہ کی تفسیر اپنے مخصوص انداز میں بیان کی۔ اس کو سن کر حاضرین میں سے ایک شخص بول اٹھا : لو سمع ھذا الذی لم لاسلمت (دیلم کے کفار بھی اگر اس کو سنیں تو ضرور اسلام قبول کر لیں ۔

آخرت کی بات رسول کے لیے اہم، ابولہب کے لیے غیر اہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دعوت عام کا حکم ہوا تو آپ نے صفا کے ٹیلے پر کھڑے ہو کر مکہ والوں کو پکارا۔ لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا : لوگو! میں تم کو آخرت کے عذاب سے ڈراتا ہوں (انی نذیر لكم بين يدی عذاب شدید). ابولہب نے یہ سن کر کہا: تبا لك سائر اليوم اما دعوتنا الالهذا (سیرت ابن کثیر) سارے دن تیرا برا ہو، کیا یہی بات بتانے کے لئے تم نے ہم کو بلایا تھا۔

مدعو کو حقیر نہ سمجھنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپس ہوئے تو سخت زخمی ہو چکے تھے۔ راستہ میں آپ نے انگور کے ایک باغ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues

Printed page