Al-Risala · January 1980 · page 41

مال کے بجائے اللہ یہ بہتر دوسرا

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۴۱

ھذا خیر لك من ان تجئی المسئلة نكتة فی یہ تمہارے لئے اس سے بہتر ہے کہ تم سوال کرو اور وہ قیامت دجھك یوم القیامة (ابوداؤد، ابن ماجہ) کے دن تمہارے چہرے پر ایک داغ کی صورت میں ظاہر ہو۔ فضول خرچی کسی بہتر خرچ کی قیمت پر ہوتی ہے ما رأيت 'اسرافاً الا وبجانبہ حق مضیع میں نے جب بھی کسی اسراف کو دیکھا تو میں نے پایا کہ اس کے پاس ایک حق کو ضائع کر دیا گیا تھا۔ یعنی جب بھی آدمی کسی غیر ضروری مد میں اپنا پیسہ برباد کرتا ہے تو وہ ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ کسی ضروری مد میں پیسہ نہ خرچ کیا گیا ہو۔

مال کے بجائے اللہ یہ بہتر دوسرا

سلمہ بن سعید اور عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں عراق سے مال آیا۔ آپ نے اس کو تقسیم کرنا شروع کیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سارا مال تقسیم کر کے ختم کر دیں گے۔ عبد الرحمٰن بن عوف رض کھڑے ہوئے اور کہا:

یا امیر المومنین لو ابقیت من ھذ المال لعدد اے امیر المومنین! اس مال سے آپ کچھ روک لیں۔ ایسا نہ ہو ان حضر او نائبة ان نزلت (حلیۃ الاولیاء) کہ کسی دشمن سے مقابلہ پڑے یا کوئی ناگہانی مصیبت آجائے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا:

مالك ، قاتلك اللہ ، نطق بھا علی لسانك شیطان تم کو کیا ہوا ۔ اللہ تم کو قتل کرے۔ یہ بات شیطان نے و الله لا ا عصیین اللہ الیوم لعدد تمھاری زبان سے کہلائی ہے۔ خدا کی قسم میں کل کے اندیشہ سے آج کے دن اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔

تعمیر دنیا سے زیادہ فکر تعمیر آخرت کی

مدینہ میں ایک مسلمان نے اپنا گھر بنایا۔ وہ دیوار کے اوپر مٹی لیپ رہے تھے۔ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے ۔ آپ نے پوچھا کیا کر رہے ہو۔ انھوں نے جواب دیا : شیئا نطین (مٹی لگا رہے ہیں) آپ نے فرمایا: الامر اسرع من ذلك (فیصلہ کی گھڑی اس سے زیادہ قریب ہے)

شہادت سے بھی قرض معاف نہیں ہوتا

ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اللہ کے راستہ میں جہاد اور اللہ پر ایمان تمام اعمال میں سب سے افضل ہیں۔ ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا، اے اللہ کے رسول آپ کیا فرماتے ہیں، اگر میں اللہ کے راستہ میں مارا جاؤں تو میری خطائیں مجھ سے دور ہو جائیں گی۔ آپ نے فرمایا: ہاں اگر تم اللہ کے راستہ میں مارے جاؤ اس حال میں کہ تم صبر کرنے والے ہو، تمھاری نیت رضائے الہی کو پانا ہو، تم آگے بڑھنے والے ہو، پیچھے مڑنے والے نہ ہو، پھر کچھ دیر میں آپ نے فرمایا " تم نے کیا کہا تھا " انھوں نے کہا: آپ کیا فرماتے ہیں اگر میں اللہ کے راستہ میں مارا جاؤں تو میری خطائیں مجھ سے دور ہو جائیں گی" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page