کعبہ سے زیادہ قابل احترام
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲
کعبہ سے زیادہ قابل احترام
یا ایہا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ولا تجسسوا ولا یغتب بعضکم بعضا ایحب احدکم ان یأکل لحم اخیہ میتا فکرهتموہ واتقوا ٱللَّهَ ان الله تواب رحیم (حجرات ۱۲)
قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : لما عُرج بی مررتُ بقوم لہم اظفار من نحاس یخمشون وجوہہم وصدورہم فقلتُ من ہؤلاء یا جبریل قال ہؤلاء الذین یأکلون لحوم الناس ویقعون فی اعراضہم (ابو داؤد)
المومن اکرم حرمة من الکعبة (ابن ماجہ) من ردّ عن عرض اخیہ ردّ اللہ عن وجهہ النار یوم القیامة (ترمذی)
اذا حسدتَ فاستغفر اللہ واذا ظننت فلا تحقق (طبرانی)
یا معشر مَن آمن بلسانہ لا تغتابوا المسلمین ولا تتبعوا عوراتہم فانہ مَن یتبع عورة اخیہ یتبع اللہ عورتہ ومَن یتبع اللہ عورتہ یفضحه فی جوف بیتہ (ابوداؤد)
اے ایمان والو، بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ۔ اور کسی کا بھید نہ ٹٹولو اور پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کو برا نہ کہو۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ، اس کو تم خود ناگوار سمجھتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا، مہربان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کے سفر میں میرا گزر کچھ لوگوں پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے وہ اس سے اپنے منہ اور سینے کھرچ رہے تھے۔ میں نے کہا اے جبریل، یہ کون لوگ ہیں۔ انھوں نے کہا یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتوں پر گرتے تھے ۔
مومن کعبہ سے زیادہ قابل احترام ہے جس نے اپنے بھائی کی عزت کو بچایا تو اللہ قیامت کے دن اس کے منہ کو آگ سے بچائے گا۔
جب تمہارے اندر حسد پیدا ہو تو اللہ سے معافی مانگو اور جب تم کو کسی کے بارے میں گمان گزرے تو اس کی تحقیق نہ کرو۔
اے ایمان لانے والو! مسلمانوں کی برائی بیان نہ کرو اور ان کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے نہ پڑو کیونکہ جو اپنے بھائی کی پوشیدہ باتوں کے درپے ہوتا ہے تو خدا اس کی پوشیدہ باتوں کے درپے ہو جاتا ہے اور خدا جس کی پوشیدہ باتوں کے درپے ہوجائے تو وہ ضرور اس کو رسوا کر دیتا ہے خواہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو۔
ان من اربى الربا الاستطالة في عرض المسلم بغيرِ حقٍّ (ابوداؤد) بد ترین زیادتی یہ ہے کہ کسی مسلمان کی عزت پر ناحق حملہ کیا جائے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues