تذکیر القرآن المائدہ ۵
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۹
اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو ج وہ چھپاوہے ہیں۔ اور تم ان میں سے اکثر کو دیکھو گے کہ وہ گناہ اور ظلم اور حرام کھانے پر دوڑتے ہیں۔ کیسے برے کام ہیں جو وہ کر وہے ہیں۔ ان کے مشائخ اور علماء ان کو کیوں و ہیں روکتے گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے۔ کیسے برے کام ہیں جو نہ کر رہے ہیں ٦٣-٦١ مدینہ کے یہودیوں میں کچھ لوگ تھے جو اسلام سے ذہنی طور پر مرعوب تھے۔ نیز اسلام کا بڑھتا ہوا غلبہ دیکھ کر کھلم کھلا اس کا حریف بننا بھی نہیں چاہتے تھے۔ یہ لوگ اگر چہ اندر سے اپنے آبائی دین پر جمے ہوئے تھے مگر الفاظ بول کر ظاہر کرتے کہ وہ بھی مومن ہیں۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ اصل معاملہ کسی انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اور خدا وہ ہے جو دلوں تک کا حال جانتا ہے۔ وہ کسی سے جو معاملہ کرے گا حقیقت کے اعتبار سے کرے گا نہ کہ ان الفاظ کی بنا پر جو اس نے مصلحت کے طور پر اپنے منہ سے نکالا تھا۔
یہود کے خواص میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک ربّی جن کو مشائخ کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے احبار جو اُن کے علماء اور فقہا کی مانند تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اگر چہ دین ہی کو اپنا صبح و شام کا مشغلہ بنائے ہوئے تھے۔ دین کے نام پر ان کی قیادت قائم تھی اور دین ہی کے نام پر ان کو بڑی بڑی رقمیں ملتی تھیں مگر ان کی قیادت و مقبولیت کاراز عوام پسند دین کی نمائندگی تھی نہ کہ خدا پسند دین کی نمائندگی۔ ان کا بولنا اور ان کا چلنا بظا ہر دین کے لئے تھا۔ گر حقیقتہ وہ ایک قسم کی دنیا داری تھی جو دین کے نام پر جاری تھی۔ رہ دین کے نام پر لوگوں کو وہی چیز دے رہے تھے جس کو وہ دین کے بغیر اپنے لئے پسند کئے ہوئے تھے۔
خدا کا پسندیدہ دین تقویٰ کا دین ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ اس کی زبان گناہ کے کلمات نہ بولے، وہ اپنی سرگرمیوں میں حرام طریقوں سے پوری طرح بچتا ہو۔ جن لوگوں سے اس کا معاملہ پیش آئے ان کے ساتھ وہ انصاف کرنے والا ہو نہ کہ ظلم کرنے والا۔ مگر آدمی کا نفس ہمیشہ اس کو دنیا پرستی کے راستہ پر ڈال دیتا ہے۔ وہ ایسی زندگی گزارنا چاہتا ہے جس میں اس کو صحیح اور غلط نہ دیکھنا ہو بلکہ صرف اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو دیکھنا ہو۔ یہود کے عوام اسی حالت پر تھے ساب ان کے خواص کا کام یہ تھا کہ وہ ان کو اس سے روکتے۔ مگر انھوں نے عوام سے ایک خاموش مفاہمت کرلی۔ رہ عوام کے درمیان ایسا دین تقسیم کرنے لگے جس میں اپنی حقیقی زندگی کو بدلے بغیر نجات کی ضمانت ہو اور بڑے بڑے درجات طے ہوتے ہوں سے یہ خواص اپنے عوام کی حقیقی زندگیوں کو نہ چھیڑتے البتہ ان کو ملت یہود کی فضیلت کے جھوٹے قصے سناتے۔ ان کے قومی ہنگاموں کو دین کے رنگ میں بیان کرتے۔ رسمی قسم کے اعمال دہرادینے پر یہ بشارت دیتے کہ ان کے ذریعہ سے ان کے لئے جنت کے محل تعمیر ہورہے ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بہت برا کام ہے کہ لوگوں کے درمیان ایسا دین تقسیم کیا جائے جس میں حقیقی عملی زندگی کو بدلنا نہ ہو، البتہ کچھ نمائشی چیزوں کا اہتمام کر کے جنت کی ضمانت مل جائے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues