تذکیر القرآن المائدہ ۵
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۵
پروردگار کی طرف سے جو کچھ اترا ہے در ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی اور انکار کو بڑھارہا ہے ۔ اور ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور کی قیامت تک کے لئے ڈال دیا ہے۔ جب کبھی وہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اس کو بجھادیتا ہے۔ اور وہ زمین میں فساد پھیلانے میں سرگرم ہیں۔ حالاں کہ اللہ فساد برپا کرنے والوں کو پسند ہمیں کرتا ۴۷ قرآن میں جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ اللہ کو قرض حسن دو تو یہود نے اس کو مذاق کا موضوع بنالیا۔ وہ کہتے کہ اللہ فقیر ہے اور اس کے بندے امیر ہیں۔ اللہ کے ہاتھ آج کل تنگ ہورہے ہیں۔ ان کی اس قسم کی باتوں کا رخ خدا کی طرف نہیں بلکہ رسول اور قرآن کی طرف ہوتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ خدا اس سے برتر ہے کہ اس کے یہاں کسی چیز کی کمی ہو۔ اس طرح کی باتیں وہ دراصل یہ ظاہر کرنے کے لئے کہتے تھے کہ رسول سچا نہ رسول نہیں۔ اور قرآن خدا کی کتاب نہیں۔ اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے ہوتا تو (نعوذ باللہ) ایسی مضحکہ خیز باتیں اس میں نہ ہو تیں۔ مگر جو لوگ اس قسم کی باتیں کریں وہ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ حقیقی دینی جذبہ سے خالی ہیں، وہ بے حسی کی سطح پر جی رہے ہیں۔
موجودہ امتحانی دنیا میں انسان کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں ایک شخص یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ "قرآن خدا کی کتاب ہے" اور اگر کوئی شخص یہ کہنا چاہے کہ "قرآن ایک بناوٹی کتاب ہے تو اس کو بھی اپنی بات کہنے کے لئے الفاظ مل جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں آدمی ایک واقعہ سے ہدایت پکڑ سکتا ہے اور اسی واقعہ سے دوسرا آدمی سرکشی کی غذا بھی لے سکتا ہے۔
یہود نے جب قرآن کی ہدایت کو ماننے سے انکار کیا تو وہ سادہ معنوں میں محض انکار نہ تھا بلکہ اس کے پیچھے ان کا یہ زعم شامل تھا کہ ہم تو نجات یافتہ لوگ ہیں، نہیں کسی اور ہدایت کو ماننے کی کیا ضرورت۔ جو لوگ اس قسم کی پر فخرنفسیات میں مبتلا ہوں ان کے اندر شدید ترین قسم کی انانیت جنم لیتی ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں جب ان کا معاملہ دوسروں سے پڑتا ہے تو وہاں بھی وہ اپنی" میں "کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ آپس کے اختلاف اور عناد کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔
پیغمبر کی دعوت یہ ہوتی ہے کہ آدمی بھی اسی اطاعت خداوندی کے دین کو اپنائے جس کو کائنات کی تمام چیزیں اپنائے ہوئے ہیں۔ یہی زمین کی اصلاح ہے۔ اب جو لوگ پیغمبرانہ دعوت کی راہ میں رکاوٹ ڈالیں وہ خدا کی زمین میں فساد پیدا کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ تاہم انسان کو بس اتنی ہی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے اندر کے فساد کو باہر لائے، دوسروں کی قسمت کا مالک بننے کی آزادی کسی کو نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues