تذکیر القرآن المائدہ ۵
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۱
سے انار گیا ہے تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے قدموں کے نیچے سے۔ کچھ لوگ ان میں سیدھی راہ پر ہیں۔ لیکن زیاوہ ان میں ایسے ہیں جو بہت برا کر رہے ہیں ۔ ۶۷ - ۶۵ تمام گمراہیوں کا اصل سبب آدمی کا ڈھیٹ ہو جانا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے تو اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگ سکتی کہ کون سی بات خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہے۔ ڈر کی نفسیات اس کے اندر سے دوسرے تمام محرکات کو حذف کر دے گی اور آدمی خدا کی بات کو فورا پہچان کر اس کو مان لے گا۔ جب آدمی اس حد تک اپنے آپ کو خدا کی طرف متوجہ کر دے تو اس کے بعد وہ بھی خدا کی توجہ کا مستحق ہو جاتا ہے۔ خدا اس کی بشری کمزوریوں کو اس سے دھو دیتا ہے اور مرنے کے بعد اس کو جنت کے نعمت بھرے باغوں میں جگہ دیتا ہے۔ آدمی کی برائیاں، بالفاظ دیگر اس کی نفسیاتی کمزوریاں وہ چیزیں ہیں جو اس کو جنت کے راستہ پر بڑھنے نہیں دیتیں۔ خدا کی توفیق سے جو شخص اپنی نفسیاتی کمزوریوں پر قابو پا لیتا ہے وہی جنت کی منزل تک پہنچتا ہے۔ جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس سے متوحش ہو جاتے ہیں جو سابقہ نظام کے تحت سرداری کا مقام حاصل کئے ہوئے ہوں۔ ان کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کو قبول کرتے ہی ان کے معاشی مفادات اور ان کی قائدانہ عظمتیں ختم ہو جائیں گی۔ مگر یہ صرف تنگ نظری ہے۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ جس چیز کو وہ توحش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں وہ صرف ان کی اہلیت کو جانچنے کے لئے ظاہر ہوئی ہے۔ آئندہ وہ خدا کے انعامات کے مستحق ہوں یا نہ ہوں اس کا فیصلہ ان کی اپنی تحفظاتی تدبیروں پر نہیں ہو گا بلکہ اس پر ہو گا کہ دعوت حق کے ساتھ وہ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ گویا دعوت حق کے انکار کے ذریعہ وہ اپنی جس بڑائی کو بچانا چاہتے ہیں وہی انکار دہ چیز ہے جو خدا کے نزدیک ان کے استحقاق کو ختم کر رہا ہے۔
آسمانی کتاب کی حامل قوموں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اصل خدائی تعلیمات میں افراط یا تفریط کا بڑھا کر یا گھٹاکر) وہ ایک خود ساختہ دین بنا لیتی ہیں اور لمبی مدت گزرنے کے بعد اس کے افراد اس سے اس قدر مانوس ہو جاتے ہیں کہ اسی کو اصل خدائی مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب خدا کا سیدھا اور سچا دین ان کے سامنے آتا ہے تو وہ اس کو اپنے لئے غیر مانوس پا کر متوحش ہوتے ہیں۔ یہود و نصاری کا یہی حال تھا۔ چنانچہ ان کی بہت بڑی اکثریت اسلام کی صداقت کو پانے سے قاصر رہی۔ صرف چند لوگ مثلاً نجاشی، شاہ حبش، عبداللہ بن سلام وغیرہ، جو اعتدال کی راہ پر باقی تھے، انھیں اسلام کی صداقت کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی۔ انھوں نے بڑھ کر اسلام کو اس طرح اپنا لیا جیسے وہ پہلے سے اسی راستہ پر چل رہے ہوں اور اپنے سفر کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لئے مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو گئے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues