تذکیر القرآن المائدہ ۵
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۲
یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب عرب میں آئے تو ایسا نہ تھا کہ اں دین کا نام لینے والا کوئی نہ ہو۔ بلکہ ان کا سارا معاشرہ دین ہی کے نام پر قائم تھا۔ دین کے نام پر بہت سے لوگ پیشوائی اور قیادت کا مقام حاصل کئے ہوئے تھے۔ دین کے نام پر لوگوں کو بڑی بڑی رقمیں ملتی تھیں۔ دینی مناصب کا حال ہونا معاشرہ میں عزت اور فخر کی علامت بنا ہوا تھا۔ اس کے باوجود آپ کو عرب کے لوگوں کی طرف سے سخت ترین مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دین خداوندی کے نام پر ان کے یہاں ایک خود ساختہ دین رائج ہو گیا تھا۔ صدیوں کی روایات کے نتیجہ میں اس دین کے نام پر گدیاں بن گئی تھیں اور مفادات کی بہت سی صورتیں قائم ہوگئی تھیں۔ ایسے ماحول میں جب پیغمبر اسلام نے بے آمیز دین کی دعوت پیش کی تو لوگوں کو نظر آیا کہ ان کی دینی حیثیت کو بے اعتبار ثابت کر رہی ہے۔ ان کو اندیشہ ہوا کہ اگر یہ دین پھیلا تو ان کا وہ مذہبی ڈھانچہ ڈھ جائے گا جس میں ان کو بڑائی کا مقام ملا ہوا ہے۔
یہ صورت حال داعی کے لئے بہت سخت ہوتی ہے۔ اپنے دعوتی کام کو کھلے طور پر انجام دینا وقت کی مذہبی طاقتوں سے لڑنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس کو دکھائی دیتا ہے کہ اگر میں کسی مصالحت کے بغیر سچے دین کی تبلیغ کروں تو مجھ کو سخت ترین رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میرا مذاق اڑایا جائے گا۔ مجھ کو بے عزت کیا جائے گا۔ میری معاشیات تباہ کی جائیں گی۔ میرے خلاف جارحانہ کارروائیاں ہوں گی۔ میں اعوان و انصار سے محروم ہو جاؤں گا۔ اب اس کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں۔ دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں دنیوی مصلحتوں کے سرے ہاتھ سے چھوٹتے ہیں۔ اور اگر دنیوی مصلحتوں کا لحاظ کیا جائے تو دعوتی عمل کی پوری انجام دہی ناممکن نظر آتی ہے۔ یہاں خدا کا وہ وعدہ داعی کو یکسر کرتا ہے۔ خدا کا وہ وعدہ ہے کہ داعی اگر اپنے آپ کو خدا کے پیغام کی پیغام رسانی میں لگا دے تو لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مشکلات میں خدا اس کے لئے کافی ہو جائے گا۔ داعی کو چاہئے کہ وہ صرف دعوت کے تقاضوں کی تکمیل میں لگ جائے اور مدعو قوم کی طرف سے ڈالے جانے والے مصائب میں وہ خدا پر بھروسہ کرے ۔
مخالفین کا رد عمل ایک فطری چیز ہے اور داعی کو بہر حال اس سے سابقہ پیش آتا ہے۔ مگر اس کا اثر اسی دائرہ تک محدود رہتا ہے جتنا خدا کے قانون آزمائش کا تقاضا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ مخاطبین اس حد تک قابو یافتہ ہو جائیں کہ وہ دعوتی مہم کو روک دیں یا اس کو تکمیل تک پہنچنے نہ دیں۔ ایک سچی دعوت کا اپنے دعوتی نشان تک پہنچنا ایک خدائی مقدر ہوتا ہے جسے وہ لازماً وایو کر رہتا ہے۔ اس کے بعد دعو گ کا مانا ناس
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues