تذکیر القرآن المائدہ ۵
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۳
میں سے اکثر کے سرکشی اور انکار کو بڑھائے گا۔ پس تم انکار کرنے والوں کے اوپر افسوس نہ کرو۔ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور صابی اور نصرانی، جو شخص بھی ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور نیک عمل کرے تو ان کے لئے نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۶۹-۶۸ یہودی کا یہ حال تھا کہ ان کے افراد عملاً خدا کے دین پر قائم نہ تھے۔ انھوں نے اپنے نفس کو اور اپنی زندگی کے معاملات کو خدا کے تابع نہیں کیا تھا۔ البتہ خوش گمانیوں کے تحت انھوں نے یہ عقیدہ بنا لیا تھا کہ خدا کے یہاں ان کی نجات یقینی ہے۔ وہ اپنی قومی فضیلت کے افسانوں اور اپنے بزرگوں کے تقدس کی داستانوں میں جی رہے تھے۔ مگر اللہ کے یہاں اس قسم کی خوش خیالیوں کی کوئی قیمت نہیں۔ اللہ کے یہاں جو کچھ قیمت ہے وہ صرف اس بابت کی ہے کہ آدمی اللہ کے احکام کا پابند بنے اور اپنی حقیقی زندگی کو خدا کے دین پر قائم کرے ۔ جو لوگ جھوٹی آرزوؤں میں جی رہے ہوں ان کے سامنے جب یہ دعوت آتی ہے کہ اللہ کے یہاں عمل کی قیمت ہے نہ کہ آرزوؤں اور تمناؤں کی تو ایسی دعوت کے خلاف وہ شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسی دعوت میں ان کو اپنی خوش خیالیوں کا محل گرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بہ صورت حال ان کے لئے آزمائش بن جاتی ہے۔ وہ ایسی دعوت کے سخت مخالف ہو جاتے ہیں۔ نمائشی خدا پرستی کے اندر چھپی ہوئی ان کی خود پرستی بے پردہ ہو کر سامنے آجاتی ہے، جس دعوت سے ان کو ربانی غذا لینا چاہئے تھا اس سے وہ صرف انکار اور سرکشی کی غذا لینے لگتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں جو پیغمبر آئے ان کے ماننے والوں کی نسلیں دھیرے دھیرے مستقل قوم کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ اب پیغمبروں کے نمونہ پر عمل تو باقی نہیں رہتا۔ البتہ اپنی عظمت و فضیلت کے قصیدے قصے کہانیوں کی صورت میں خوب پھیل جاتے ہیں۔ ہر گروہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہم سب سے افضل ہیں۔ ہماری نجات یقینی ہے۔ اللہ کے یہاں ہمارا درجہ سب سے بڑھا ہوا ہے۔ مگر اس قسم کے گروہی مذاہب کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ اللہ کے یہاں ہر شخص کا مقدمہ انفرادی حیثیت میں پیش ہوگا اور اس کے مستقبل کی بات جو کچھ فیصلہ ہوگا وہ تمام تر اس کے اپنے عمل کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔
خدا کی کتاب کو قائم کرنا نام ہے ــــــــ اللہ پر یقین کرنے کا، آخرت کی پکڑ کے اندیشہ کو اپنے اوپر طاری کرنے کا اور انسانوں کے درمیان صالح کردار کے ساتھ زندگی گزارنے کا۔ یہی اصل دین ہے اور ہر فرد کو یہی اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ آسمانی کتاب کی حامل قوم کی قیمت دنیا میں اسی وقت ہے جب کہ اس کے افراد اس دین خداوندی پر قائم ہوں۔ اس سے ہٹنے کے بعد وہ خدا کی نظر میں بالکل بے قیمت ہو جاتے ہیں، حتی کہ کھلے ہوئے کافروں اور مشرکوں سے بھی زیادہ بے قیمت ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues