تذکیر القرآن المائدہ ۵
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۴
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے۔ جب کوئی رسول ان کے پاس اسی بات لے کر آیا جس کو ان کا جی نہ چاہتا تھا تو بعضوں کو انھوں نے جھٹلایا اور بعضوں کو قتل کر دیا اور خیال کیا کہ کچھ خرابی نہ ہوگی ۔ پس وہ اندھے اور بہرے بن گئے۔ پھر اللہ نے ان پر توجہ کی۔ پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے بن گئے۔ اور اللہ دیکھتا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں - ۷۱ یہو د نے اللہ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ ایمان واطاعت کا عہد لیا تھا۔ وہ کچھ دن اس پر قائم رہے ۔ اس کے بعد ان میں بگاڑ شروع ہو گیا ۔ اب اللہ نے ان کے درمیان اپنے مصلحین اٹھائے جو ان کو اپنے عہد کی یاد دہانی کریں۔ مگر یہود کی بے راہی اور سرکشی بڑھتی ہی چلی گئی۔ انھوں نے خود نصیحت کرنے والوں کی زبان بند کرنے کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ کتنے لوگوں کو قتل کر دیا۔ جب ان کی سرکشی حد کو پہنچ گئی تو اللہ نے بابل و نینوی (عراق) کے بادشاہ بئو خذ نصر کو ان کے اوپر مسلط کر دیا جس نے ۵۸۶ ق م میں یروشلم پر حملہ کر کے یہود کے مقدس شہر کو ڈھا دیا اور یہودیوں کو گرفتار کر کے اپنے ملک لے گیا تاکہ ان سے بیگار لے۔ اس واقعہ کے بعد یہود کے دل نرم ہوئے۔ انھوں نے اللہ سے معافی مانگی ۔ اب اللہ نے سائرس (شاہ ایران) کے ذریعہ ان کی مدد کی۔ سائرس نے ۵۳۹ ق م میں کلدانیوں کے اوپر حملہ کیا اور ان کو شکست دے کر ان کے ملک پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد اس نے یہود کو جلاوطنی سے نجات دلا کر ان کو ان کے وطن جانے اور وہاں دوبارہ بسنے کی اجازت دے دی۔
اب یہود کو نئی زندگی ملی اور ان کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ مگر کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ غفلت اور سرکشی میں مبتلا ہوئے ۔ اب پھر نبیوں اور مصلحین کے ذریعہ اللہ نے ان کو تنبیہ کیا۔ مگر وہ ہوش میں نہ آئے، یہاں تک کہ انھوں نے حضرت یحییٰ کو قتل کر دیا (اور اپنی حد تک) حضرت مسیح کو بھی ۔ اب اللہ کا غضب ان پر بھڑکا اور سنہ ۷۰ میں رومی شہنشاہ ٹائٹس کو ان پر مسلط کر دیا گیا۔ جس نے ان کے ملک پر حملہ کر کے ان کو ویران کر دیا۔ اس کے بعد یہود کبھی اپنی ذاتی بنیادوں پر کھڑے نہ ہو سکے ۔
آسمانی کتاب کی حامل قوموں کی نفسیات بعد کے زمانہ میں یہ بن جاتی ہیں کہ وہ خدا کے خاص لوگ ہیں۔ وہ جو کچھ بھی کریں اس پر ان کی پکڑ نہیں ہوگی۔ خدا کی تعلیمات میں اس عقیدہ کے خلاف کھلے کھلے بیانات ہوتے ہیں۔ مگر وہ ان کے بارے میں اندھے اور بہرے بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد خود ساختہ عقیدوں اور فرضی قصے کہانیوں کا ایسا ہالہ بنا لیتے ہیں کہ خدا کی تنبیہات ان کو دکھائی اور سنائی نہیں دیتیں۔ یہود کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ایک حامل کتاب قوم کو اس کے "دشمنوں کے قبضہ" میں دے دیا جائے تو یہ اس کے لیے خدا کی طرف سے آزمائش کا وقت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہلکی سزا دے کر قوم کو جگایا جائے ۔ اگر اس کے نتیجہ میں قوم کے افراد میں خدا پرستانہ جذبات جاگ اٹھیں تو اس کے اوپر سے سزا اٹھائی جاتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو خدا اس کو رد کرکے پھینک دیتا ہے اور پھر کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues