تذکیر القرآن المائدہ ۵
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۵
تدبر القرآن المائدہ ۵ یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ خدا ہی تو مسیح ابن مریم ہے۔ حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمھارا رب بھی۔ جو شخص اللہ کا شریک ٹھہرائے گا تو اللہ نے حرام کی اس پر جنت اور اس کا ٹھکانا آگ ہے۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے۔ حالانکہ کوئی معبود نہیں، بجز ایک معبود کے۔ اور اگر وہ باز نہ آئے اس سے جو وہ کہتے ہیں تو ان میں سے کفر پر قائم رہنے والوں کو ایک درد ناک عذاب پکڑے گا۔ یہ لوگ اللہ کے آگے توبہ کیوں نہیں کرتے اور اس سے معافی کیوں نہیں چاہتے۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ مسیح ابن مریم تو صرف ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی بہت رسول گزر چکے ہیں۔ اور ان کی ماں ایک راستباز خاتون تھیں۔ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے دلیلیں بیان کر رہے ہیں۔ پھر دیکھو نہ کدھر الٹے چلے جا رہے ہیں۔ کہو کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمھارے نقصان کا اختیار رکھتی ہے اور نہ نفع کا۔ اور سننے والا اور جاننے والا صرف اللہ ہی ہے ۷۲-۷۷ حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے دیے۔ یہ معجزے اس لئے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا ہیں۔ آپ کے اندر خدا حلول کئے ہوئے ہے۔ یہود نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کر دیا کہ یہ ایک شعبدہ باز اور جادو گر ہیں۔ حضرت مسیح اللہ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لئے آئے تھے۔ مگر ایک گروہ نے آپ سے شرک کی خدائی اور دوسرے گروہ نے انکار کی۔
معبود وہی ہو سکتا ہے جو خود بے احتیاج ہو اور دوسرے کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھے۔ کھانا آدمی کے محتاج ہونے کی آخری علامت ہے۔ جو کھانے کا محتاج ہے وہ ہر چیز کا محتاج ہے۔ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ مکمل طور پر ایک محتاج ہستی ہے۔ ایسی ہستی خدا کس طرح ہوسکتی ہے۔ یہی معاملہ نفع نقصان کا ہے کسی کو نفع ملنا یا کسی کو نقصان پہنچنا ایسے واقعات ہیں جن کے ظہور میں آنے کے لئے پوری کائنات کی مساعدت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص اس قسم کے کائناتی اسباب فراہم کرنے پر قادر نہیں۔ اس لئے انسانوں میں سے کسی انسان کا یہ درجہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اس کو معبود فرض کر لیا جائے۔ جب بھی آدمی خدا کے سوا کسی اور کو اپنی عقیدت و محبت کا مرکز بناتا ہے تو اس کے پیچھے یہ چھپا ہوا جذبہ ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی دنیا میں کوئی بڑا درجہ حاصل ہے۔ وہ خدا کے یہاں اس کا مددگار بن سکتا ہے۔ مگر اس قسم کی تمام امیدیں محض جھوٹی امیدیں ہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے سوا دوسری چیزوں کا بے بس ہونا کھلا ہوا نہیں ہے۔ اس لئے یہاں آدمی غلط فہمی میں پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں جب تمام حقائق کھول دئے جائیں گے تو آدمی دیکھے گا کہ خدا کے سوا جن سہاردوں پر وہ بھروسہ کئے ہوئے تھا وہ کس قدر بے قیمت تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues