Al-Risala · September 1980 · page 26

تذکیر القرآن المائدہ ۵

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۶

حضت مسیح کے ابتدائی شاگردوں کے نزدیک مسیح" ایک انسان تھا جو خدا کی طرف سے تھا، وہ آپ کو انسان اور اللہ کا رسول سمجھتے تھے۔ مگر آپ کا دین جب شام کے علاقہ سے باہر نکلا تو اسی’’ کو مصر ویونان کے فلسفہ سے سابقہ پیش آیا۔ مسیحیت قبول کرکے ایسے لوگ مسیحیت میں داخل ہوئے جو وقت کے فلسفیانہ افکار سے متاثر تھے۔ اس طرح اندرونی اسباب اور بیرونی محرکات کے تحت مسیحیت میں ایک نیا دور شروع ہوا جب کہ مسیحیت کو وقت کے غالب فلسفیانہ اسلوب میں بیان کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔

اس زمانہ کی مہذب دنیا میں مصرو یونان کے فلسفیوں کا زور تھا۔ وقت کے ذہن لوگ عام طور پر انہیں کے افکار کی روشنی میں سوچتے تھے۔ یونانی فلاسفہ نے اپنے قیاسات کے ذریعہ عالم کی ایک خیالی تصویر بنا رکھی تھی۔ وہ حقیقت کی تعبیر تین اقنوموں (Hypostases) کی صورت میں کرتے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔ وجود، حیات اور علم۔ یہی علما جو خود بھی ان افکار سے مرعوب تھے، نیز وقت کے ذہین طبقہ کو مسیحیت کی طرف مائل کرنا چاہتے تھے، انھوں نے اپنے مذہب کو وقت کے غالب فکر پر ڈھالنے کی کوشش کی۔ انھوں نے مسیحیت کی ایسی تعبیر کی جس میں خدا کا دین بھی اس ’’تین‘‘ کے جامع میں ڈھل جائے اور لوگ اس کو اپنے ذہن کے مطابق پا کر اس کو قبول کریں۔ انھوں نے کہا کہ مذہبی حقیقت بھی ایک تثلیث کی صورت گری ہے۔ اقنوم وجود باپ ہے۔ اقنوم حیات بیٹا ہے اور اقنوم علم روح القدس ہے۔ اس کلامی مذہب کو مکمل کرنے کے لئے اور بہت سے خیالات اس میں داخل کئے گئے۔ مثلاً یہ کہ حضرت مسیح ’’کلام‘‘ کا جسدی ظہور ہیں۔ ہبوط آدم کے بعد ہر انسان گنہگار ہو چکا ہے اور انسان کی نجات کے لئے خدا کے بیٹے کو مصلوب ہو کر اس کا کفارہ دینا پڑا، وغیرہ۔ اس طرح چوتھی صدی ہجری میں مصری، یونانی اور رومی تخیلات میں ڈھل کر وہ چیز تیار ہوئی جس کو موجودہ مسیحیت کہا جاتا ہے۔

خدا کی سوار اسبیل سے بھٹکنے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ لوگ گم راہ قوموں کے خیالات سے مرعوب ہو کر دین کو ان کے خیالات کے سانچہ میں ڈھالنے لگتے ہیں۔ خدا کے دین کو مانتے ہوئے اس کی تعبیر اس ڈھنگ سے کرتے ہیں کہ وہ غالب افکار کے مطابق نظر آنے لگے۔ وہ خدا کے دین کے نام پر غیر خدا کے دین کو اپنا لیتے ہیں۔ نصاریٰ نے اپنے دین کو اپنے زمانہ کی مشرک قوموں کے افکار میں ڈھال لیا اور اسی کو خدا کا مقبول دین کہنے لگے۔ یہی چیز کبھی اس طرح پیش آتی ہے کہ دین کو خود اپنے قومی عزائم کے سانچہ میں ڈھال لیا جاتا ہے ر اس دوسری تعریف کی مثال یہود ہیں۔ انھوں نے خدا کے دین کی ایسی تعبیر کی کہ وہ ان کی دنیوی زندگی کی تصدیق کرنے والا بن جائے۔ مسلمانوں کے لئے کتاب الہی کے متن میں اس قسم کی تعبیرات داخل کرنے کا موقع نہیں ہے۔ تاہم متن کے باہر انہیں وہ سب کچھ کرنے کی آزادی ہے جو پچھلی قوموں نے کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues

Printed page