Al-Risala · September 1980 · page 27

تذکیر القرآن المائدہ ۵

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۷

نہایت برا کام تھا جو وہ کر رہے تھے۔ تم ان میں بہت آدمی دیکھو گے کہ کفر کرنے والوں سے دوستی رکھتے ہیں۔ کیسی بری چیز ہے جو انھوں نے اپنے لئے آگے بھیجی ہے کہ خدا کا غضب ہوا ان پر اور وہ ہمیشہ عذاب میں پڑے رہیں گے۔ اگر وہ ایمان رکھنے والے ہوتے اللہ پر اور نبی پر اور اس پر جو اس کی طرف اترا تو وہ کافروں کو دوست نہ بناتے۔ مگر ان میں اکثر نافرمان ہیں ﴿۸۱-۷۸﴾ ایمان آدمی کو ظلم اور برائی کے بارے میں حساس بنا دیتا ہے۔ وہ کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھتا ہے تو تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ فوراً اسے روک دے۔ برے لوگوں سے اس کا تعلق جدائی کا ہوتا ہے نہ کہ دوستی کا۔ مگر جب ایمانی جذبہ کمزور پڑ جائے تو آدمی صرف اپنی ذات کے بارے میں حساس ہو کر رہ جاتا ہے، اب اس کو صرف وہ برائی برائی معلوم ہوتی ہے جس کی زد اس کے اپنے اوپر پڑے۔ جس برائی کا رخ دوسروں کی طرف ہو اس کے بارے میں وہ غیر جانب دار ہو جاتا ہے۔

بنی اسرائیل جو اس زوال کا شکار ہوئے اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ انھوں نے اپنی زبان سے اچھی بات بولنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کے خواص اب بھی خوبصورت تقریریں کرتے تھے مگر اس معاملہ میں وہ اتنے سنجیدہ نہ تھے کہ جب کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھیں تو وہاں کو پڑیں اور اس کو روکنے کی کوشش کریں۔ حضرت داؤد اپنے زمانہ کے یہود کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان میں کوئی نیکو کار نہیں، ایک بھی نہیں 14) مگر اسی کے ساتھ آپ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہود اپنے ہمسایوں سے صلح کی باتیں کرتے تھے جب کہ ان کے دلوں میں بدی ہوتی تھی (۲۸) وہ خدا کے آئین کو بیان کرتے اور خدا کے عہد کو زبان پر لاتے (۵) حضرت مسیح اپنے زمانہ کے یہودیوں کے بارے میں فرماتے ہیں: اے ریاکار فقیہو تم پر افسوس، تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھتے ہو اور دکھاوے کے لئے نماز کو طول دیتے ہو۔ تم پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تو دہ کی دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف، رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ اے اندھے راہ بتانے والو مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو۔ اے ریاکار فقیہو تم ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بے دینی سے بھرے ہوئے ہو (متی ۲۳) یہود خدا کا آئین بیان کرتے تھے۔ وہ لمبی نمازیں پڑھتے اور فصلوں میں دسواں حصہ نکالتے۔ مگر ان کی باتیں صرف کہنے کے لئے ہوتی تھیں۔ وہ بے ضرر احکام پر نمائشی اہتمام کے ساتھ عمل کرتے مگر جب صاحب معاملہ سے انصاف کرنے کا سوال ہوتا، جب ایک کم زور پر رحم کا تقاضا ہوتا، جب اپنے نفس کو کچل کر اللہ کے حکم کو ماننے کی ضرورت ہوتی تو وہ پھسل جاتے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی خدا کا بندہ ان کی غلطیوں کو بتاتا تو وہ اس کے دشمن ہو جاتے۔ یہی چیز تھی جس نے ان کو لعنت اور غضب کا مستحق بنا دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues

Printed page