اللہ کارسول
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۸
وہ لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے الگ رہتے ہیں۔ وہ خود اپنے کو ہلاک کر رہے ہیں مگر وہ نہیں سمجھتے۔ اور اگر تم ان کو اس وقت دیکھو جب وہ آگ پر کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ کاش ہم پھر بھیج دیے جائیں تو ہم اپنے رب کا نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ہم ایمان والوں میں سے ہو جائیں۔ اب ان پر وہ چیز کھل گئی جس کو وہ اس سے پہلے چھپاتے تھے۔ اور اگر وہ واپس بھیج دیے جائیں تو وہ پھر وہی کریں گے جس سے وہ روکے گئے۔ اور بے شک وہ جھوٹے ہیں ٢٨ - 28-25 موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو یہ موقع حاصل ہے کہ وہ ہر بات کی مفید مطلب توجیہہ کر سکے۔ اس لئے جو لوگ تعصب کا ذہن لے کر بات کو سنتے ہیں ان کا حال ایسا ہوتا ہے جیسے ان کے کان بند ہوں اور ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہوں ۔ وہ سن کر بھی نہیں سنتے اور بتانے کے بعد بھی نہیں سمجھتے۔ دلائل اپنی ساری وضاحت کے باوجود ان کو مطمئن کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جو کچھ سنتے ہیں مجادلہ کے ذہن سے سنتے ہیں نہ کہ نصیحت کے ذہن سے ۔ ان کے اندر بات کو سننے اور سمجھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی بات کا اصل پہلوان کے ذہن کی گرفت میں نہیں آتا۔ اس کے برعکس ہر بات کو الٹی شکل دینے کے لئے انھیں کوئی نہ کوئی چیز مل جاتی ہے ۔ دلائل ان کے ذہن کا جزر نہیں بنتے۔ اپنے مخالفانہ ذہن کی وجہ سے وہ ہر بات میں کوئی ایسا پہلو نکال لیتے ہیں جس کو غلط معنی دے کر وہ اپنے آپ کو بدستور مطمئن رکھیں کہ وہ حق پر ہیں۔ جو لوگ یہ مزاج رکتے ہوں ان کے لئے تمام دلائل بے کار ہیں۔ کیونکہ امتحان کی اس دنیا میں کوئی بھی دلیل ایسی نہیں جو آدمی کو اس سے روک دے کہ وہ اس کی تردید کے لئے کچھ خود ساختہ الفاظ نہ پائے۔ اگر کوئی دلیل نہ مل رہی ہو تب بھی وہ حقارت کے ساتھ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کر دے گا : "یہ کون سی نئی بات ہے۔ یہ تو وہی پرانی بات ہے جو ہم بہت پہلے سے سنتے چلے آ رہے ہیں"، اس طرح آدمی اس کی صداقت کو مان کر بھی اس کو رد کرنے کا ایک بہانہ پالے گا۔ ایسے لوگ خدا کے نزدیک دہرا مجرم ہیں ، کیونکہ وہ نہ صرف خود حق سے رکھتے ہیں بلکہ ایک خدائی دلیل کو غلط معنی پہنا کر عام لوگوں کی نظر میں بھی اس کو مشکوک بناتے ہیں جو اتنی سمجھ نہیں رکھتے کہ باتوں کی گہرائی کے ساتھ تجزیہ کر سکیں۔
دنیا کی زندگی میں اس قسم کے لوگ خوب بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ دنیا میں حق کا انکار کر کے آدمی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ اس لئے وہ غلط فہمی میں پڑا رہتا ہے۔ مگر قیامت میں جب اس کو آگ کے اوپر کھڑا کر کے پوچھا جائے گا تو ان پر ساری حقیقتیں کھل جائیں گی۔ اچانک وہ ان تمام باتوں کا اقرار کرنے لگے گا جن کو وہ دنیا میں ٹھکرا دیا کرتا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues