اللہ کارسول
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۹
دیں گے ہاں، ہمارے رب کی قسم، یہ حقیقت ہے۔ خدا فرمائے گا۔ اچھا تو عذاب چکھو، اس انکار کے بدلے جو تم کرتے تھے ۔ یقیناً وہ لوگ گھاٹے میں رہے جنہوں نے اللہ سے ملنے کو جھٹلایا۔ یہاں تک کہ جب وہ گھڑی ان پر اچانک آئے گی تو وہ کہیں گے، ہائے افسوس، اس باب میں ہم نے کیسی کوتاہی کی اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو، کیسا برا بوجھ ہے جس کو وہ اٹھائیں گے اور دنیا کی زندگی تو بس کھیل تماشا ہے اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو تقویٰ رکھتے ہیں، کیا تم نہیں سمجھتے ۳۲-۲۹ جب بھی کوئی آدمی حق کا انکار کرلیتا ہے یا نفس کی خواہشات پر چلتا ہے تو ایسا اس بنا پر ہوتا ہے کہ وہ یہ سمجھ کر دنیا میں نہیں رہتا کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھایا جائے گا اور مالک کائنات کے سامنے حساب کتاب کے لئے کھڑا کیا جائے گا۔ دنیا میں آدمی کو اختیار ملا ہوا ہے جس کو وہ بے روک ٹوک استعمال کرتا ہے۔ اس کو مال و دولت اور دوست اور ساتھی حاصل ہیں جن پر وہ بھروسہ کر سکتا ہے۔ اس کو عقل ملی ہوئی ہے جس سے وہ سرکشی کی باتیں سوچے اور اپنے ظالمانہ عمل کی خوبصورت توجیہہ کر سکے۔ یہ چیزیں اس کو دھوکے میں ڈالتی ہیں۔ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر جھوٹا بھروسہ کرتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ جیسا میں آج ہوں ویسا ہی میں ہمیشہ رہوں گا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں اس کو جو کچھ ملا ہوا ہے وہ بطور امتحان ہے نہ کہ بطور استحقاق۔ اس قسم کی زندگی خواہ وہ آخرت کا انکار کرکے ہو یا انکار کے الفاظ بولے بغیر ہو، آدمی کا سب سے بڑا جرم ہے۔ جن دنیوی چیزوں کو آدمی اپنا سب کچھ سمجھ کر ان پر ٹوٹتا ہے۔ آخر کس حق کی بنا پر وہ ایسا کر رہا ہے، آدمی جس روشنی میں چلتا ہے اور جس ہوا میں سانس لیتا ہے اس کا کوئی معاوضہ اس نے ادا نہیں کیا ہے۔ وہ جس زمین سے اپنا رزق نکالتا ہے اس کا کوئی بھی جز اس کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ وہ تمام پسندیدہ چیزیں جن کو حاصل کرنے کے لئے آدمی دوڑتا ہے ان میں سے کوئی چیز نہیں جو اس کی اپنی ہو۔ جب یہ چیزیں انسان کی پیدا کی ہوئی نہیں ہیں تو جوان تمام چیزوں کا مالک ہے کیا اس کا آدمی کے اوپر کوئی حق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی کا موجودہ دنیا کو استعمال کرناہی لازم کر دیتا ہے کہ وہ ایک روز اس کے مالک کے سامنے حساب کے لئے کھڑا کیا جائے جو لوگ دنیا کو خدا کی دنیا سمجھ کر زندگی گزاریں ان کی زندگی تقویٰ کی زندگی ہوتی ہے۔ اور جو لوگ اس کو خدا کی دنیا نہ سمجھیں ان کی زندگی لہو و لعب کی زندگی ہوتی ہے۔ لہو و لعب کی زندگی چند روز کا تماشا ہے جو مرنے کے ساتھ ختم ہو جائے گا، اور تقویٰ کی زندگی خدا کے ابدی اصولوں پر قائم ہے اس لئے وہ ابدی طور پر آدمی کا سہارا بنے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues