Al-Risala · October 1980 · page 30

اللہ کارسول

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰

ہم کو معلوم ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں اس سے تم کو رنج ہوتا ہے۔ یہ لوگ تم کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی نشانیوں کا انکار کر رہے ہیں۔ اور تم سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انھوں نے جھٹلائے جانے اور تکلیف پہنچانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کو ہماری مدد پہنچ گئی ۔ اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں ، اورپیغمبروں کی کچھ خبریں تم کو پہنچ ہی چکی ہیں۔ اور اگر ان کی بے رخی تم پر گراں گزر رہی ہے تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈھو یا آسمان میں سیڑھی لگاؤ اور ان کے لئے کوئی نشانی لے آؤ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا۔ پس تم نادانوں میں سے نہ بنو۔ قبول تو وہی لوگ کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو اللہ اٹھائے گا پھر وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے ۳۶ - ۳۳ ابو جہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے محمد، خدا کی قسم ہم تم کو نہیں جھٹلاتے۔ یقیناً تم ہمارے درمیان ایک سچے آدمی ہو۔ مگر ہم اس چیز کو جھٹلاتے ہیں جس کو تم لائے ہو۔ مکہ کے لوگ جو ایمان نہیں لائے وہ آپ کو ایک اچھا انسان مانتے تھے۔ مگر کسی کے متعلق یہ ماننا کہ اس کی زبان پر حق جاری ہوا ہے اس کو بہت بڑا اعزاز دینا ہے اور اتنا بڑا اعزاز دینے کے لئے وہ تیار نہ تھے۔ آپ کو جب وہ "سچا"، یا "ایمان دار" کہتے تو ان کو یہ نفسیاتی تسکین حاصل رہتی کہ آپ ہماری ہی سطح کے ایک انسان ہیں۔ مگر اس بات کا اقرار کہ آپ کی زبان پر خدا کا کلام جاری ہوا ہے آپ کو اپنے سے اونچا درجہ دینے کے ہم معنی تھا۔ اور اس قسم کا اعتراف آدمی کے لئے مشکل ترین کام ہے۔

موجودہ دنیا میں خدا اپنی براہِ راست صورت میں سامنے نہیں آتا، وہ دلائل اور نشانیوں کی صورت میں انسان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے، اس لئے حق کے دلائل کو نہ ماننا یا اس کے حق میں ظاہر ہونے والی نشانیوں کی طرف سے آنکھیں بند کر لینا گویا خدا کو نہ ماننا اور خدا کے چہرہ کی طرف سے آنکھیں پھیر لینا ہے۔ تا ہم ایسا نہیں ہو سکتا کہ خدا مجبور کن معجزات کے ساتھ سامنے آئے۔ مجبور کن معجزات کے جلو میں خدا کی دعوت پیش کی جائے تو پھر اختیار کی آزادی ختم ہو جائے گی اور امتحان کے لئے آزادانہ اختیار کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ داعی کو اس بات کا غم نہ کرنا چاہئے کہ اس کے ساتھ صرف دلائل کا وزن ہے، غیر معمولی قسم کی تسخیری قوتیں اس کے پاس موجود نہیں۔ داعی کو اس فکر میں پڑنے کے بجائے صبر کرنا چاہئے ۔ دعوتِ حق کی جد و جہد ایک طرف داعی کے صبر کا امتحان ہوتی ہے اور دوسری طرف مخاطبین کے لئے اس بات کا امتحان کہ وہ اپنے جیسے ایک انسان میں نمائندہ خدا ہونے کی جھلک دیکھیں ۔ وہ انسان کے منہ سے نکلے ہوئے کلام میں خدائی کلام کو پالیں، وہ مادی زور سے خالی دلائل کے آگے اس طرح جھک جائیں جیسے زور آور خدا کے آگے جھکیں۔ اگر زندہ لوگوں کے لئے ساری کائنات

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page