اللہ کارسول
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۱
کے پاس اکٹھے کئے جائیں گے ۔ اور جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ اللہ جس کو چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے ۳۹-۴۷ ان آیات کے اختصار کو کھول دیا جائے تو پورا مضمون اس طرح ہوگا ۔ وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے ساتھ غیر معمولی نشانی کیوں نہیں جو اس کے پیغام کے برحق ہونے کا ثبوت ہو۔ تو اللہ ہر قسم کی نشانی اتارنے پر قادر ہے۔ مگر اصل سوال نشانی کا نہیں بلکہ لوگوں کی بے علمی کا ہے۔ نشانیاں تو بے شمار تعداد میں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں جب لوگ ان موجود نشانیوں سے سبق نہیں لے رہے ہیں تو کوئی نئی نشانی اتارنے سے وہ کیا فائدہ اٹھا سکیں گے طرح طرح کے چلنے والے جانور اور مختلف قسم کی اڑنے والی چڑیاں جو زمین میں اور فضا میں موجود ہیں وہ تمہارے لئے نشانیاں ہی تو ہیں۔ ان تمام زندہ مخلوقات سے بھی اللہ کو وہی کچھ مطلوب ہے جو تم سے مطلوب ہے۔ اور ہر ایک سے جو کچھ مطلوب ہے وہ خدا نے اس کے لئے لکھ دیا ہے، انسان کو شرعی طور پر اور دوسری مخلوقات کو جبلی طور پر ۔ چڑیوں اور جانوروں جیسی مخلوقات خدا کے لکھے پر پورا پورا عمل کر رہی ہیں۔ مگر انسان خدا کے لکھے کو ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ اس لئے یہ معاملہ نشانی کا نہیں بلکہ اندھے پن کا ہے ، بقیہ تمام مخلوقات جو دین اختیار کئے ہوئے ہیں، انسان کے لئے اس کے سوا کوئی دین اختیار کرنے کا جواز کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن کو عمل کرنا ہے وہ نشانی کا مطالبہ کئے بغیر عمل کر رہے ہیں اور جن کو عمل کرنا نہیں ہے وہ نشانیوں کے ہجوم میں رہ کر نشانیاں مانگ رہے ہیں ایسے لوگوں کا انجام یہی ہے کہ قیامت میں سب کو جمع کرکے دکھا دیا جائے کہ ہر قسم کے حیوانات کس طرح حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کر کے خدا کے راستہ پر چل رہے تھے۔ یہ صرف انسان تھا جو اس سے انحراف کرتا رہا۔ جانوروں کی دنیا مکمل طور پر مطابق فطرت دنیا ہے۔ ان کے یہاں رزق کی تلاش ہے مگر لوٹ اور ظلم نہیں۔ ان کے یہاں ضرورت ہے مگر حرص اور خود غرضی نہیں ان کے یہاں باہمی تعلقات ہیں مگر ایک دوسرے کی کاٹ نہیں۔ ان کے یہاں اونچ نیچ ہے مگر حسد اور غرور نہیں۔ ان کے یہاں ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے مگر بغض و عداوت نہیں۔ ان کے یہاں کام پورے ہیں مگر کریڈٹ لینے کا شوق نہیں۔ مگر انسان سرکشی کرتا ہے ۔ وہ خدائی نقشہ کا پابند بننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ انسان سے جس چیز کا مطالبہ ہے وہ ٹھیک وہی ہے جس پر دوسرے حیوانات قائم ہیں۔ پھر اس کے لئے معجزہ مانگنے کی کیا ضرورت۔ حیوانات کی صورت میں چلتی پھرتی نشانیاں کیا آدمی کے سبق کے لئے کافی نہیں ہیں جو خدائی طریق عمل کا زندہ نمونہ پیش کر رہی ہیں اور اس طرح پیغمبر کی تعلیمات کے برحق ہونے کی عملی تصدیق کرتی ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues