البان ۶
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۲
البان ۶
کہو، یہ بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے یا قیامت آجائے تو کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے۔ بتاؤ اگر تم سچے ہو، بلکہ تم اسی کو پکارو گے ۔ پھر وہ دور کر دیتا ہے اس مصیبت کو جس کے لئے تم اس کو پکارتے ہو۔ اگر وہ چاہتا ہے۔ اور تم بھول جاتے ہو ان کو جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو ۔ (۴۱ - ۴۰ ابو جہل کے لڑکے عکرمہ اسلام کے سخت دشمن تھے۔ وہ فتح مکہ تک اسلام کے مخالف بنے رہے۔ فتح مکہ کے دن بھی انھوں نے ایک مسلمان کو تیر مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ عکرمہ ان اشخاص میں تھے جن کے متعلق فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا کہ جہاں ملیں قتل کر دئے جائیں ۔
مکہ جب فتح ہوگیا تو عکرمہ مکہ چھوڑ کر جدہ کی طرف بھاگے۔ انھوں نے چاہا کہ کشتی کے ذریعہ بحر قلزم پار کر کے حبش پہنچ جائیں۔ مگر وہ کشتی میں سوار ہو کر سمندر میں پہنچے تھے کہ تند ہواؤں نے کشتی کو گھیر لیا۔ کشتی خطرہ میں پڑ گئی ۔ کشتی کے مسافر سب مشرک لوگ تھے۔ انھوں نے لات اور عزیٰ وغیرہ اپنے بتوں کو مدد کے لئے پکارنا شروع کیا۔ مگر طوفان کی شدت بڑھتی رہی ۔ یہاں تک کہ مسافروں کو یقین ہوگیا کہ اب کشتی ڈوب جائے گی ۔ اب کشتی والوں نے کہا کہ اس وقت لات و عزیٰ کچھ کام نہ دیں گے۔ اب صرف ایک خدا کو پکارو، وہی تم کو بچا سکتا ہے ۔ چنانچہ سب ایک خدا کو پکارنے لگے ۔ اب طوفان تھم گیا اور کشتی واپس اپنے ساحل پر آگئی ۔ عکرمہ پر اس واقعہ کا بہت اثر ہوا ۔ انھوں نے کہا : خدا کی قسم، دریا میں اگر کوئی چیز خدا کے سوا کام نہیں آسکتی تو یقیناً خشکی میں بھی خدا کے سوا کوئی دوسری چیز کام نہیں آسکتی ۔ خدایا میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر تو نے مجھ کو اس سے نجات دے دی جس میں اس وقت میں پھنسا ہوا ہوں تو میں ضرور محمد کے یہاں جاؤں گا اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا اور مجھے یقین ہے کہ میں ان کو معاف کرنے والا، درگزر کرنے والا اور مہربان پاؤں گا ۔ (اللهم لك عهد ان عافيتني مما انا فيه ان آتى محمد استی | ضع يدي في يده فلاجدنه عفوا غفورا كريما، رواه أبو داود والنسائی) ساری تاریخ کا یہ مشاہدہ ہے کہ انسان نازک لمحات میں خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ شخص بھی جو عام زندگی میں خدا کے سوا دوسروں پر بھروسہ کئے ہو یا سرے سے خدا کو مانتا نہ ہو۔ یہ خدا کے وجود اور اس کے قادر مطلق ہونے کی فطری شہادت ہے۔ غیر معمولی حالات میں جب ظاہری پر دے ہٹ جاتے ہیں اور آدمی تمام مصنوعی خیالات کو بھول چکا ہوتا ہے اس وقت آدمی کو خدا کے سوا کوئی چیز یاد نہیں آتی۔ بالفاظ دیگر، مجبوری کے نقطہ پر پہنچ کر ہر آدمی خدا کا اقرار کر لیتا ہے، قرآن کا مطالبہ یہ ہے کہ یہی اقرار اور اطاعت آدمی اس وقت کرنے لگے جب کہ بظاہر مجبور کرنے والی کوئی چیز اس کے سامنے موجود نہ ہو۔
بقیہ حیوانات اپنی جبلت کے تحت حقیقت پسندانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ مگر انسان کو جو حسینہ حقیقت پسندی اور اعتراف کی سطح پر لاتی ہے وہ خوف کی نفسیات ہے۔ حیوانات کی دنیا میں جو کام جبلت کرتی ہے، انسان کی دنیا میں وہی کام تقویٰ انجام دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues