البان ۶
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۳
فتح کے بعد آپ نے عمومی طور پر ان سب لوگوں کی معافی کا اعلان کر دیا جنہوں نے آپ کے خلاف سخت ترین جرائم کئے تھے۔ البتہ آپ نے کچھ لوگوں کی بابت فرمایا کہ نہ قتل کر دیے جائیں خواہ وہ کعبہ کے پردے کے نیچے پائے جائیں۔ ابن ہشام وغیرہ نے اپنی سیرت کی کتابوں میں نام بنام ان کا ذکر کیا ہے۔ ان کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ ۱۔ عبداللہ بن سعد : یہ مسلمان ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کاتب وحی مقرر کیا۔ پھر وہ مرتد ہو کر کافروں سے جاملے۔ فتح مکہ کے بعد جب ان کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قتل کا حکم دیا ہے تو وہ بھاگ کر حضرت عثمان کے پاس پہنچے جو ان کے دودھ شریک بھائی تھے۔ وہ ان کو چھپا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا کہ ان کو دوبارہ مسلمان کر لیجئے ۔ آپ خاموش رہے۔ حضرت عثمان نے پھر درخواست کی تو آپ نے ان سے بیعت لے لی ۔ حضرت عمر اور حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں وہ مصر کے حاکم رہے اور افریقہ کی فتح میں ان کا خاص حصہ تھا۔
۲۔ عبداللہ بن خطل : اس نے پہلے اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صدقہ وصول کرنے کے لئے بھیجا۔ اس کے ساتھ ایک غلام اور ایک انصاری تھے۔ ایک منزل پر پہنچ کر عبداللہ بن خطل نے اپنے غلام سے کہا کہ مرغ ذبح کر کے اس کو پکاؤ۔ مگر غلام سو گیا ۔ اور وقت پر کھانا تیار نہ کر سکا۔ اس پر ابن خطل کو غصہ آگیا اور اس نے غلام کو مار ڈالا۔ اب اس کو ڈر ہوا کہ اگر میں مدینہ واپس جاتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے قصاص لیں گے۔ چنانچہ وہ مرتد ہو کر مکہ چلا گیا اور مشرکین سے مل گیا۔ وہ شاعر تھا اور آپ کی ہجو میں اشعار کہا کرتا تھا۔ فتح مکہ کے دن ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں سے لپٹ گیا۔ آپ کو بتایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہیں جا کر قتل کر دو۔ چنانچہ ابو برزہ اسلمی اور سعید بن حریث نے حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کو قتل کیا۔
۳۔ 3۔ فَرتنیٰ : یہ مذکورہ عبداللہ بن خطل کی باندی تھی۔ وہ آپ کی ہجو میں اشعار پڑھتی تھی اور مشرکین مکہ کی شراب کی مجلسوں میں گاتی بجاتی تھی۔ آپ نے ابن خطل کے ساتھ اس کے قتل کا بھی حکم دیا اور وہ قتل کر دی گئی۔ ۴۔ قُریبہ : یہ بھی عبداللہ بن خطل کی باندی تھی اور اس کا بھی وہی پیشہ تھا جو فَرتنیٰ کا تھا۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ مگر اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر امن کی درخواست کی۔ اس کو آپ نے امن دے دیا اور وہ مسلمان ہو گئی۔
۵۔ حویرث بن نقیذ بن وہب : یہ شخص شاعر تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں شعر کہتا تھا،
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues