البان ۶
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۴
بالفاظ دیگر استهزاء و تمسخر کی حد تک اسلام کا مخالف تھا۔ حضرت عباس بن مطلب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں ، فاطمہ اور ام کلثوم کو لے کر مکہ سے مدینہ روانہ ہوئے۔ حویرث بن نقیذ نے ان کا پیچھا کیا اور ان کے اونٹ کو نیزہ مار کر بھڑکا دیا جس کی وجہ سے دونوں خواتین زمین پر گر پڑیں۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا اور حضرت علی نے اس کو قتل کر دیا۔
۶۔ مقیس بن صبابہ : اس شخص کا ایک بھائی ہشام بن صبابہ تھا۔ غزوہ ذی قرد کے موقع پر ایک انصاری نے ہشام کو غلطی سے قتل کر دیا۔ اس کے بعد مقیس بن صبابہ مکہ سے مدینہ آیا اور مسلمان ہو گیا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی کی دیت مجھے دلائی جائے جو غلطی سے دشمن سمجھ کر قتل کیا گیا ہے۔ آپ نے اس کی دیت ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد وہ چند دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہا اور پھر اپنے بھائی کے قاتل کو قتل کر کے اچانک مکہ بھاگ گیا اور مرتد ہو گیا۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا اور نممیلہ بن عبداللہ لیثی نے اس کو قتل کیا۔
۷۔ سارہ : یہ عورت عکرمہ بن ابی جہل کی باندی تھی۔ آپ کی ہجو میں اشعار گایا کرتی تھی اور آپ کا مذاق اڑاتی تھی۔ آپ نے اس کا خون مباح کیا تھا۔ پھر اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر امان مانگا تو آپ نے امن دے دیا۔ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ حضرت عمر رضی کے زمانہ خلافت تک زندہ رہی۔
۸-۹ حارث بن ہشام اور زہیر بن ابی امیہ : ان دونوں شخصوں کا خون بھی مباح کر دیا گیا تھا۔ وہ بھاگ کر اپنی ایک رشتہ دار خاتون ام ہانی بنت ابی طالب کے گھر میں داخل ہو گئے ۔ حضرت علی ان کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچے اور کہا کہ خدا کی قسم میں ان دونوں کو ضرور قتل کر وں گا۔ ام ہانی نے حضرت علی کو روکا اور ان دونوں کو اپنے گھر میں بند کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں۔ اور کہا کہ میں نے ان دونوں آدمیوں کو پناہ دی ہے مگر علی ان کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : تم نے جن کو پناہ دی ہم نے بھی ان کو پناہ دی اور تم نے جن کو امن دیا ہم نے بھی ان کو امن دیا۔ علی رضہ ان کو قتل نہ کریں۔ چنانچہ وہ دونوں چھوڑ دئے گئے ۔ ۱۰۔ عکرمہ بن ابی جہل: عکرمہ اپنے باپ کی طرح اسلام کے سخت ترین دشمن تھے۔ ان کا خون بھی آپ نے مباح کر دیا تھا۔ وہ مکہ سے بھاگ کر یمن چلے گئے۔ ان کی بیوی ام حکیم بنت حارث جو مسلمان ہو چکی تھیں، انھوں نے اپنے شوہر کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے امن کی درخواست کی۔ آپ نے ان کی امان منظور کر لی ۔ اس کے بعد وہ یمن گئیں اور عکرمہ کو مکہ واپس لائیں۔ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گئے۔ عکرمہ نے اس کے بعد اسلام کے لئے زبردست جانی و مالی قربانی دی۔ وہ حضرت ابو بکر کی خلافت کے زمانہ میں مرتدین سے لڑتے ہوئے اجنادین کے مقام پر شہید ہوئے۔
۱۱۔ ہبار بن الاسود : اس شخص سے مسلمانوں کو بہت تکلیفیں پہنچی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحبزادی زینب زوجہ ابوالعاص ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ جارہی تھیں کہ ہبار بن اسود نے آپ کے اونٹ کو
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues