Al-Risala · October 1980 · page 35

البان ۶

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۵

نیزہ مارا۔ اس کے بعد اونٹ بدک کر دوڑا تو حضرت زینب اونٹ سے زمین پر گر پڑیں۔ اس وقت وہ حاملہ تھیں، ان کا حمل ساقط ہو گیا۔ اس کے بعد وہ آخر عمر تک بیمار رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہبار کے قتل کا حکم دیا تھا۔ ہبار نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر امان طلب کی اور کہا کہ اے خدا کے رسول میری جہالت کو معاف کر دیجیے اور میرا اسلام قبول کر لیجیے ۔ آپ نے ان کو معاف کر دیا۔

12۔ وحشی بن حرب: وحشی نے آپ کے چچا حضرت حمزہ کو قتل کیا تھا اور ان کا خون بھی مباح کر دیا گیا تھا۔ وہ اولاً مکہ سے طائف بھاگ گئے۔ پھر مدینہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی غلطی کی معافی چاہتے ہوئے اسلام کی پیش کش کی۔ آپ نے ان کو اسلام میں داخل کر لیا اور ان کو معاف کر دیا۔ وہ حضرت ابوبکر کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے اور جس حربہ سے حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا اسی حربہ سے مسیلمہ کذاب کو قتل کیا۔

13 کعب بن زہیر: عرب کے مشہور شاعر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں اشعار کہا کرتے تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر ان کا خون بھی مباح کر دیا گیا۔ وہ مکہ سے بھاگ گئے۔ وہ بعد کو مدینہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگتے ہوئے بیعت کی درخواست کی۔ آپ نے ان کو بیعت کر لیا اور اس کے بعد ان کو اپنی چادر عنایت فرمائی۔

14۔ حارث بن طلاطل یہ شخص شاعر تھا اور اشعار کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ نے اس کا خون مباح کر دیا اور حضرت علی رض نے اس کو قتل کیا۔

15۔ عبد اللہ بن زبعری: یہ عرب کے بڑے شاعروں میں سے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذمت میں ہجویہ اشعار کہا کرتے تھے۔ آپ نے ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ وہ مکہ سے بھاگ کر نجران چلے گئے۔ بعد میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر انھوں نے توبہ کی اور اسلام لائے۔ آپ نے ان کو معاف کر دیا۔ 16۔ ہبیرۃ بن ابی وہب مخزومی: یہ شخص شاعر تھا اور شعر کہہ کر آپ کا اور آپ کے مشن کا استہزا کیا کرتا تھا۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ وہ مکہ سے بھاگ کر نجران چلا گیا اور وہیں کفر کی حالت میں مر گیا۔ ۱۸۔ ہند بنت عتبہ زوجہ ابوسفیان: اس عرب خاتون کو اسلام سے اتنی دشمنی تھی کہ غزوہ احد کے موقع پر انہوں نے حضرت حمزہ کا جگر نکال کر چبا یا تھا۔ آپ نے ان کے قتل کا حکم دیا۔ مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنی غلطیوں کی معافی مانگتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔ آپ نے ان کو معاف کر دیا۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر گئیں اور تمام بتوں کو توڑ ڈالا اور کہا: خدا کی قسم تمہاری ہی وجہ سے ہم دھوکہ میں تھے۔ اوپر جو تفصیل درج کی گئی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سترہ مردوں اور عورتوں کے قتل کا حکم دیا تھا۔ ان میں سے ہر شخص متعین اور معلوم شخصی جرم کی بنا پر گردن زدنی تھا۔ تاہم ان میں سے جس شخص نے بھی معافی مانگی یا اس کی طرف سے کسی نے معافی کی درخواست کی اس کو آپ نے معاف کر دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page